حدیث نمبر: 22416
٢٢٤١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن حصين قال: شهدت (ملاك) (١) عباس بن تمام بن (عباس) (٢) بن عبد المطلب ومعنا عكرمة، فجاؤوا باللوز والسكر لينثروه، فقال عكرمة: ائتونا به على الأطباق فلنأخذ منه حاجتنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عباس بن تمام کی شادی میں شریک تھا۔ ہمارے ساتھ حضرت عکرمہ بھی تھے۔ کچھ لوگ بادام اور شیرینی وغیرہ لائے تاکہ اسے بکھیریں اور لوگوں کی طرف اچھالیں۔ حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ یہ چیزیں پلیٹوں میں لاؤ تاکہ ہم اپنی ضرورت کے مطابق لے لیں۔
حدیث نمبر: 22417
٢٢٤١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن أنه كان لا يرى بأسًا (بالنهاب) (١) في العرسات والولائم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شادیوں اور ولیموں وغیرہ میں شیرینی وغیرہ بکھیرنے اور ایک دوسرے سے چھین کر کھانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 22418
٢٢٤١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن يونس (١) عن ابن سيرين أنه كان يحب أن يؤتى به على الأطباق، فينالون منه حاجتهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ پسند فرماتے تھے کہ شرینی وغیرہ کو پلیٹوں میں لایا جائے تاکہ اس میں سے لوگ بقدر حاجت لے لیں۔
حدیث نمبر: 22419
٢٢٤١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مغيرة عن الشعبي أنه كان لا يرى (به) (١) بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ بھی اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔
حدیث نمبر: 22420
٢٢٤٢٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم أنه (قال) (١): يأخذه الصبيان] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں سے بچے اٹھا لیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 22421
٢٢٤٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن موسى ابن (عبد اللَّه) (١) بن يزيد قال: (دعي) (٢) عبد الرحمن بن أبي ليلى إلى عرس، فجاؤوا بسكر لينثروه، فقال: أقسموه بينهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلی رحمہ اللہ کو ایک شادی میں بلایا گیا، اس شادی میں لوگ لٹانے کے لئے شیرینی لے کر آئے، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ شیرینی ان کے درمیان تقسیم کردو۔
حدیث نمبر: 22422
٢٢٤٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن الأعمش عن موسى (ابن) (١) (عبد اللَّه) (٢) بن يزيد الأنصاري قال: شهدت ملاكا، فجيء بسكر لينثروه ⦗٥٣٢⦘ فقال عبد الرحمن بن أبي ليلى: (ضعوه) (٣) (فاقسموه) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن عبد اللہ ابن یزید انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ایک شادی میں تھا، لوگ شیرینی بکھیرنے لگے تو حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلی رحمہ اللہ نے فرمایا ( لٹاؤ مت) اس کو رکھ دو اور تقسیم کردو۔
حدیث نمبر: 22423
٢٢٤٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبيه عن المسيب بن رافع عن عبد اللَّه بن يزيد الخطمي في نثر الجوز قال: إن وضعتموه أصبنا منه، وإن نثرتموه لم نصب منه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن یزید الخطمی رحمہ اللہ بادام وغیرہ لٹانے کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر آپ لوگ وہ رکھ دو گے تو ہم ان تک پہنچ جائیں گے اور اگر آپ لوگ لٹاؤ گے تو ہم اس تک نہ پہنچ پائیں گے۔
حدیث نمبر: 22424
٢٢٤٢٤ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن أبي جعفر قال: أدركت رجالا صالحين يكرهون أكل ما نثر] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے کئی صالح لوگوں کو پایا جو لوٹی ہوئی چیز کھانے کو ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 22425
٢٢٤٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن حجاج عن الحكم عن إبراهيم أنه كره انتهاب الجوز والسكر.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم بادام اور شیرینی لٹانے کو ناپسند کرتے تھے، حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں ہے، بیشک اس کو ناپسند اس لئے کیا گیا ہے کہ شریف آدمی کا نفس اس کو پسند نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 22426
٢٢٤٢٦ - قال: وقال عامر: لا بأس، إنما كره ما لم تطب به نفس صاحبه.
حدیث نمبر: 22427
٢٢٤٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن (أبي) (١) حصين (عن خالد بن سعد) (٢) عن أبي مسعود الأنصاري أنه كان إذا نثر على الصبيان منع صبيانه (واشترى) (٣) لهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب بچوں پر چیزیں لٹائی جا رہی ہوتیں تو یہ بچوں کو ان کے لینے سے منع فرماتے اور ان کو خرید کردیتے۔
حدیث نمبر: 22428
٢٢٤٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن أبي عدي عن سفيان عن أبي ⦗٥٣٣⦘ حصين عن خالد بن (سعد) (١) أن أبا مسعود كره نهاب السكر على الصبيان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن سعد بچوں پر شیرینی وغیر لٹانے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 22429
٢٢٤٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا شعبة عن الحكم قال: كنت (١) بين إبراهيم والشعبي فسئل عن نهاب السكر في العرس فكرهه إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ابراہیم رحمہ اللہ اور حضرت شعبی رحمہ اللہ کے ساتھ تھا، اُن دونوں حضرات سے شادی میں شیرینی وغیرہ لٹانے کے متعلق دریافت کیا گیا، ابراہیم رحمہ اللہ نے اس کو ناپسند فرمایا، جبکہ حضرت شعبی رحمہ اللہ نے اس میں کوئی حرج نہ سمجھا۔
حدیث نمبر: 22430
٢٢٤٣٠ - ولم ير الشعبي به بأسًا.
حدیث نمبر: 22431
٢٢٤٣١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن غنبسة عن الشعبي أنه لم ير به بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے، اور ابراہیم رحمہ اللہ اس کو ناپسند کرتے۔
حدیث نمبر: 22432
٢٢٤٣٢ - وكرهه إبراهيم] (١).
حدیث نمبر: 22433
٢٢٤٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن حصين عن عكرمة أن كره نثر السكر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ شیرینی وغیرہ لٹانے کو ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 22434
٢٢٤٣٤ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن عطاء أنه كره نثر السكر] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رضی اللہ عنہ بھی اس کو ناپسند کرتے تھے۔