کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص یہ کہتے ہوئے سامان فروخت کرے کہ میں ہر عیب سے بری ہوں، تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22398
٢٢٣٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن عاصم (بن) (١) عبيد اللَّه عن عبد اللَّه بن عامر بن ربيعة عن زيد بن ثابت أنه كان يرى البراءة من كل عيب (جائزًا) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت رحمہ اللہ اس بات کو جائز سمجھتے ہیں کہ بائع یہ کہہ کر چیز فروخت کرے کہ میں ہر عیب سے بری ہوں۔
حدیث نمبر: 22399
٢٢٣٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن يحيى بن سعيد عن سالم (أن) (١) ابن عمر باع غلامًا له بثمانمائة، قال: فوجد به المشتري عيبًا، فخاصمه إلى عثمان، فسأله عثمان فقال: بعته بالبراءة، فقال: (تحلف) (٢) باللَّه (لقد بعته ⦗٥٢٧⦘ و) (٣) ما به من عيب تعلمه، فقال: بعته بالبراءة، وأبى أن يحلف، فرده عثمان عليه فباعه بعد ذلك بألف وخمسمائة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے آٹھ سو درہم میں ایک غلام فروخت کیا، مشتری نے اس غلام میں عیب پایا اور مخاصمہ کے لئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق دریافت فرمایا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے اسے بیچتے وقت کہہ دیا تھا کہ میں اس کے ہر عیب سے بری الذمہ ہوں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ آپ قسم اٹھائیں کہ میں نے اس کو غلام فروخت کیا اور اس میں بوقت فروخت کوئی عیب ایسا نہ تھا جو میرے علم میں ہو ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے بیچتے وقت یہ کہہ دیا تھا کہ میں اس کے ہر عیب سے بری الذمہ ہوں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دوبارہ ارشاد فرمایا کہ آپ قسم اٹھائیں کہ میں نے اس کو غلام فروخت کیا اور اس میں بوقت فروخت کوئی عیب ایسا نہ تھا جو میرے علم میں ہو ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ غلام آپ کو واپس کروا دیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بعد میں وہی غلام پندرہ سو درہم میں فروخت کیا۔
حدیث نمبر: 22400
٢٢٤٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام بن حرب عن مغيرة عن إبراهيم قال: ما سَمَى من عيب برئ منه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بائع بیع کرتے وقت جن عیوب کا نام لے کر برأت کا اظہار کرے گا صرف انہی عیوب سے بری ہوگا۔
حدیث نمبر: 22401
٢٢٤٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر عن شريح قال: إذا هو سمى برئ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ عیوب کا نام لے لے تو وہ بری ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 22402
٢٢٤٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن أبي عدي عن ابن عون عن ابن سيرين في الرجل يبيع الدابة فيقول: أبرئ من كذا، أبرئ من كذا، أبرئ من الجرد (١)، قال: لايبرأ إلا من شيء يسميه و (يريه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص یہ کہتے ہوئے جانور فروخت کرتا ہے کہ میں فلاں عیب سے بری ہوں، فلاں عیب سے بری ہوں اور گنجے پن کی بیماری سے بھی بری ہو، آپ نے فرمایا جن عیوب کا وہ نام لے گا صرف ان عیوب سے بری ہوگا۔
حدیث نمبر: 22403
٢٢٤٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن دينار قال: قلت للحسن: أبيع السلعة وأتبرأ من القروح والجروح (والنغانغ) (١) والباطن ⦗٥٢٨⦘ والظاهر، فقال: لا تبرأ حتى تقول: في هذا العين كذا، وهذا كذا، وإلا رد عليك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت دینار فرماتے ہیں کہ میں نے حسن رحمہ اللہ سے عرض کیا : مبیع فروخت کرنا یہ کہتے ہوئے کہ میں پھنسیوں سے، زخموں سے، ہاتھ اور پاؤں کے آبلوں سے اور ظاہر و باطن کے ہر عیب سے بری ہوں، یہ کہنا کیسا ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ تو بری نہیں ہوگا جب تک یہ نہ کہہ دے کہ اس آنکھ کے عیب سے اور اس چیز کے عیب سے بری ہوں، اگر ایسا نہ کہے تو مبیع کو تجھے واپس کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 22404
٢٢٤٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن ابن جريج عن عطاء قال: لا يبرأ من العيب حتى (يسميه) (١) ويضع (يده) (٢) عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک تمام عیوب کے نام نہ لے لے اور ان پر ہاتھ نہ رکھ کر بتادے وہ بری نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 22405
٢٢٤٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل (١) الأزرق عن الشعبي قال: (إذا) (٢) سمى برئ، وإن لم يضع يده على العيب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صرف نام لینے سے بھی وہ بری ہوجائے گا، اگرچہ عیوب پر ہاتھ نہ بھی رکھے۔
حدیث نمبر: 22406
٢٢٤٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور عن رجل عن شريح قال: لا يبرأ حتى يضع (يده) (١) (عليه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک وہ عیوب پر ہاتھ نہ رکھے بری نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 22407
٢٢٤٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا قال: أبيعك (لحما) (٢) على (بارية) (٣)، أبيعك ما أقلت الأرض قال: إذ سمى برئ.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یوں کہے کہ میں گوشت چٹائی پر رکھ کر فروخت کروں گا، یا میں تجھے وہ چیز فروخت کروں گا جو زمین سے نکلے، اگر وہ عیوب کا نام لے لے تو بری ہوجائے گا۔