کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص پیمانے کے ذریعے ناپی جانے والی چیز بیچے اور برتن کے بدلے میں کچھ نکال لے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22392
٢٢٣٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ليث عن طاوس أنه كان يكره بيع السمن وبيع الريت، ويرفع للظروف كذا وكذا، ويقول: لا؛ إلا صبا أو وزنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس ناپسند فرماتے تھے کہ کوئی شخص گھی اور زیتون کی اس طرح بیع کرے کہ برتن کے بدلے میں کچھ کم کردے اور کہے کہ یہ وزن کے طور پر ہے۔ ) (مثال کے طور پر وہ برتن اور برتن کے اندر موجود چیز کا سو کلو گرام کے بدلے وزن کرے، پھر سو میں دس گرام اس بنیاد پر کم کردے کہ وہ برتن کا وز ہے۔ )
حدیث نمبر: 22393
٢٢٣٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ابن عون عن محمد أنه كان يكره القطر.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ قطر کو ناپسند کرتے تھے، حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ قطر یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے سے بیع کرے اور وزن میں سے کچھ حصہ برتن کے لئے الگ ڈال دے۔
حدیث نمبر: 22394
٢٢٣٩٤ - قال ابن عون: (و) (١) القطر: الرجل يبيع الرجل فيلقي للظروف شيئًا من الوزن.
حدیث نمبر: 22395
٢٢٣٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن (سلم) (١) بن أبي الذيال قال: سألت ابن سيرين عن الذي يبيع المتاع في (البواسن) (٢)، وقد جعلوا بينهم وزن الظروف شيئًا معلومًا، قال: يبيعه وزنًا كله والظروف معه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے دریافت کیا کہ لوگ بواسن میں سامان کی بیع کرتے ہیں اور برتن کے بدلے اس میں کچھ معلوم مقدار میں ڈالتے ہیں ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا پورے وزن کی بیع کریں اور برتن اس کے ساتھ ہی ہوگا۔ ( وزن کرنے میں برتن کو ساتھ ہی شمار کیا جائے گا)
حدیث نمبر: 22396
٢٢٣٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن يزيد عن أيوب أبي العلاء، عن قتادة وأبي هاشم قالا: في الرجل يشتري السمن والعسل على أن (يرفع) (١) من الظروف كذا وكذا، فزعموا أنه مكروه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ اور حضرت ابو ہاشم سے دریافت کیا گیا کہ کوئی بھی شخص گھی یا شہد کی بیع اس طرح کرے کہ برتن کے بدلے میں کچھ خاص مقدار کا اضافہ کرے تو انہوں نے اس طرح کرنے کو ناپسند سمجھا۔
حدیث نمبر: 22397
٢٢٣٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود عن عمران عن حماد قال: سألت إبراهيم عن الأعرابي يجيء بالنحي (١) من السمن ويبيعه ويلقي للنحي أمنانا فقال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک اعرابی گھی کا برتن لے کر آیا اور وہ بیع اس طرح کرتا ہے کہ برتن کے بدلہ میں کچھ کیل ڈالتا ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔