کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص اگر غلام کو تصرف( تجارت) وغیرہ کرنے سے روک دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22355
٢٢٣٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (أبي) (١) عدي عن صالح بن أبي (الأخضر) (٢) عن عباد بن سعيد أن عمر بن عبد العزيز قال: من باع عبدا أو رجلًا محجورا عليه فمالُه إتواء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے کوئی ایسا غلام بیچا جسے تجارت سے روکا گیا تھا تو اس نے اپنا مال ضائع کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22355
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22355، ترقيم محمد عوامة 21463)
حدیث نمبر: 22356
٢٢٣٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا أتى أهل سوقه فأعلمهم أنه حُجر عليه فليس لأحد أن يخالطه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب آقا بازار والوں کے پاس آکر انہیں بتادے کہ اس نے اپنے غلام کو تجارت سے روک دیا ہے تو پھر کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ اس کے ساتھ معاملات کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22356
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22356، ترقيم محمد عوامة 21464)
حدیث نمبر: 22357
٢٢٣٥٧ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن قال: إذا حجر الرجل على عبده في أهل سوقه (لم) (١) يجز عليه] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص غلام کو بازار میں بازارو الوں کے سامنے سے تصرف وغیرہ کرنے سے روک دے تو اس سے بیع وغیرہ کرنا جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22357
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22357، ترقيم محمد عوامة 21465)
حدیث نمبر: 22358
٢٢٣٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن ابن عون عن ابن سيرين أنه كان لا يرى في الحجر شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ تجارت سے روکے جانے کو کچھ نہیں سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22358
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22358، ترقيم محمد عوامة 21466)
حدیث نمبر: 22359
٢٢٣٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن يمان عن محمد بن قيس عن بكار (العتري) (١) أن رجلًا حجر على غلام له فرفع إلى علي فقال: كنت ترسله بدرهم يشتري به لحمًا قال: نعم، قال: فأجعله مأذونًا له (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکار العنزی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو تجارت سے روک دیا، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس معاملہ لے گیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مالک سے دریافت کیا کہ کیا تو اسے درہم دے کر گوشت وغیرہ لینے بھیجتا ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ جی ہاں، یہ سن کر آپ نے اس غلام کو تجارت کرنے کی اجازت دے دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22359
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22359، ترقيم محمد عوامة 21467)