کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص کسی آدمی کو ایک شہر میں پیسے دے اور دوسرے شہر میں پہنچ کر اُس سے وصول کر لے
حدیث نمبر: 22307
٢٢٣٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن عبيد اللَّه بن عبد الرحمن بن موهب عن حفص (أبي) (١) المعتمر عن أبيه أن عليا قال: لا بأس أن يعطي المال بالمدينة و (يأخذه) (٢) بأفريقية (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ مدینہ منورہ میں پیسے دئیے جائیں اور افریقہ جا کر وصول کرلیے جائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22307
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22307، ترقيم محمد عوامة 21418)
حدیث نمبر: 22308
٢٢٣٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن عبيد اللَّه بن عبد الرحمن بن موهب عن حفص (أبي) (١) المعتمر عن أبيه عن علي بنحوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22308
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22308، ترقيم محمد عوامة 21419)
حدیث نمبر: 22309
٢٢٣٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج عن عطاء عن ابن عباس وابن الزبير أنهما كانا لا يريان بأسًا أن يأخذ المال بأرض الحجاز و (يعطي) (١) بأرض العراق (و) (٢) يأخذ بأرض العراق ويعطى بأرض الحجاز (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ حجاز پہنچ کر مال وصول کرلیا جائے جبکہ وہ عراق میں دئیے ہوں اور عراق میں وصول کرلیے جائیں جبکہ وہ حجاز میں دئیے ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22309
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22309، ترقيم محمد عوامة 21420)
حدیث نمبر: 22310
٢٢٣١٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حفص عن حجاج عن الحكم عن إبراهيم أنه لم ير به بأسًا] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22310
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22310، ترقيم محمد عوامة 21421)
حدیث نمبر: 22311
٢٢٣١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج عن أبي مسكين وخارجة عمن حدثه عن الحسن بن علي على أنه كان يأخذ المال بالحجاز ويعطيه بالعراق أو بالعراق ويعطيه بالحجاز (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ حجاز میں وہ مال وصول کرلیتے تھے جو وہ عراق میں دیتے تھے یا عراق میں وہ مال وصول کرلیتے تھے جو وہ حجاز میں ( قرض) دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22311
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22311، ترقيم محمد عوامة 21422)
حدیث نمبر: 22312
٢٢٣١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج قال: كان عبد الرحمن ابن الأسود يأخذ (الدراهم) (١) بالحجاز و (يعطيها) (٢) بالعراق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن الاسود رحمہ اللہ دراہم حجاز میں وصول کرلیتے ( جبکہ ) دیتے عراق میں تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22312
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22312، ترقيم محمد عوامة 21423)
حدیث نمبر: 22313
٢٢٣١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ابن عون عن محمد أنه كان لا يرى بأسًا أن يدفع (الدراهم) (١) بالبصرة، ويأخذها بالكوفة.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ بصرہ میں دراہم دے کر کوفہ میں وصول کرلیے جائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22313
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22313، ترقيم محمد عوامة 21424)
حدیث نمبر: 22314
٢٢٣١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن عون عن محمد قال: لا بأس بالسفتجة.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسید لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22314
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22314، ترقيم محمد عوامة 21425)
حدیث نمبر: 22315
٢٢٣١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي (العميس) (١) عن يزيد بن جُعدُبة عن عبيد بن السباق عن زينب الثقفية امرأة عبد اللَّه أن النبي ﷺ أعطاها جذاذ خمسين وسقا ثمرًا وعشرين وسقا شعيرًا فقال لها عاصم بن عدي: إن شئت وفيتكيها هنا بالمدينة وتوفيها بخيبر، فقالت: حتى أسأل أمير المؤمنين عمر، فسألته فقال: وكيف بالضمان (٢)؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زینب الثقفیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے جذاذ کو پچاس وسق کھجور اور بیس وسق جُوْ عطا فرمائی، حضرت عاصم بن عدی رحمہ اللہ نے ان سے کہا : اگر آپ چاہیں تو ہم تجھے یہ مدینہ منورہ میں دے دیں اور تو ہمیں خیبر میں دے دے، انہوں نے عرض کیا : ( ٹھہر جاؤ) یہاں تک کہ میں امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کرلوں ، پس انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ضمان کون دے گا ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22315
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ يزيد بن جعدُبة متروك، أخرجه إسحاق ٥/ ٢٥٢ (٢٤٠٦)، والطبراني ٢٤/ ٢٨٧ (٧٣٢)، والبيهقي ٥/ ٣٥٢، وعبد الرزاق (١٤٦٤٣)، وابن أبي عمر كما في المطالب العالية (١٢٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22315، ترقيم محمد عوامة 21426)
حدیث نمبر: 22316
٢٢٣١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن جريج عن عطاء أن ابن الزبير كان يعطي التجار المال ها هنا ويأخذ منهم بأرض أخرى، (فذكرت أو ذكر) (١) ذلك لابن عباس فقال: لا بأس ما لم يشترط (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ تاجروں کو مال یہاں سے دیتے اور دوسری جگہ پہنچ کر وصول فرما لیتے، اس بات کا ذکر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے ہوا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر بطور شرط ایسا نہ کیا گیا ہو تو تب درست ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22316
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22316، ترقيم محمد عوامة 21427)
حدیث نمبر: 22317
٢٢٣١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن إبراهيم قال: لا بأس بالسفتجة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسید حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں اور حضرت میمون بن ابو شبیب اس کو ناپسند کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22317
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22317، ترقيم محمد عوامة 21428)
حدیث نمبر: 22318
٢٢٣١٨ - وكان ميمون بن أبي شبيب يكرهها.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22318
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22318، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 22319
٢٢٣١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن (الرؤاسي) (١) عن دينار قال: سألت الحسن: أعطي الصراف الدرهم بالبصرة وآخذ السفتجة، آخذ مثل دراهمي بالكوفة، فقال: إنما يفعل ذلك من أجل اللصوص، لا خير في قرض جر منفعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حسن رحمہ اللہ سے دریافت کیا : صراف کو بصر ہ میں دراہم دے کر اس سے رسید حاصل کی جاسکتی ہے ؟ اس جیسے دراہم کوفہ میں جا کر اس سے وصول کر لیئے جائیں ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : یہ چوروں کی وجہ سے ایسا کیا جاتا ہے، البتہ اس قرض میں کوئی خیر اور بھلائی نہیں ہے جس میں نفع ( سود ) ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22319
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22319، ترقيم محمد عوامة 21429)