کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک شخص دوسرے شخص سے کسی بات پر گفتگو کرتا ہے، اور پھر اسے اس کی بنا پر تحفہ (هدیہ) دیتا ہے
حدیث نمبر: 22135
٢٢١٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن بن عون عن ابن سيرين قال: جاء عقبة بن (عمرو أبو) (١) مسعود إلى أهله فإذا هدية، فقال: ما هذا؟ فقالوا: الذي شفعت له، فقال: أخرجوها، أتعجل أجر شفاعتي في الدنيا (٢)؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عقبہ بن عمرو أبو مسعود رحمہ اللہ اپنے گھر تشریف لے گئے وہاں پر ہدیہ موجود تھا، آپ رحمہ اللہ نے دریافت فرمایا کہ یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ جس کی سفارش کی تھی اس کی طرف سے ہدیہ ہے، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا اس کو گھر سے باہر نکال دو ، کیا میری سفارش کا اجر مجھے دنیا میں جلدی دینا چاہتے ہیں ؟
حدیث نمبر: 22136
٢٢١٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن عمار عن سالم عن مسروق قال: سألت عبد اللَّه عن السحت فقال: الرجل يطلب الحاجة (للرجل) (١) فيهدي إليه فيقبلها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے رشوت کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے کوئی ضرورت طلب کرے اور اس کے لئے فیصلہ کروا دے اور وہ اس کو کوئی ہدیہ دے تو اس کو چاہیے کہ ہدیہ قبول کرے۔
حدیث نمبر: 22137
٢٢١٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن كليب بن (وائل) (١) قال: قلت لابن عمر: أتاني دهقان عظيم الخراج فقال: (تقبلني) (٢) من العامل، لا ⦗٤٦٩⦘ أتقبله (لأُعطي) (٣) عنه شيئًا إلا ليؤمنه عامله ويضطرب في حوائجه (٤)، فلم ألبث إلا قليلًا حتى أتاني بصحيفتي (٥)، فقلت: جزاك اللَّه خيرًا، وحملني على دابة (وأعطاني دراهم) (٦) وكساني، فقال: أرأيت (٧) لو لم (تقبله) (٨) (أكان) (٩) يعطيك؟ (قلت: لا) (١٠)، قال: لا، (يصلح) (١١) لك (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کلیب بن وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میرے پاس ایک دیہاتی آدمی آیا جس کا بہت سارا خراج بنتا تھا۔ اس نے مجھ سے درخواست کی کہ آپ عامل سے میری سفارش کردیجیے۔ میں اس کی سفارش اس لیے نہیں کرتا کہ مجھ کو اس سے کچھ ہدیہ وغیرہ مل جائے۔ صرف اس لیے تاکہ عامل کو اس دیہاتی پر اعتماد ہوجائے اور عامل اس کی ضروریات کو پورا کردیا کرے۔ ابھی تھوڑی ہی دیر ہی گذری تھی کہ وہ میرے پاس میرا صحیفہ لے کر آیا اور کہا جزاک اللہ خیراً اور مجھے سواری پر بٹھایا اور مجھے اور درہم دئیے اور کپڑے پہنائے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : آپ کا کیا خیال ہے اگر تو اس کی سفارش نہ کرتا تو وہ تجھے یہ عطاء کرتا ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ تیرے لئے ٹھیک اور درست نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 22138
٢٢١٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن (الحسن) (١) قال: (أتى) (٢) دهقان من دهاقين سواد الكوفة عبد اللَّه بن جعفر يستعين به في شيء على علي، (قال) (٣): فكلم له عليا فقضى له حاجته، قال: فبعث إليه الدهقان بأربعين ألفا وبشيء معها لا أدري ما هو؟ فلما وضعت بين يدي عبد اللَّه بن جعفر قال: ما هذا؟ قيل له: بعث بها الدهقان الذي كلمت له في حاجته أمير المؤمنين، قال: ردوها عليه، فإنا أهلَ بيت لا نبيع المعروف (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ کوفہ کے گاؤں کے چودھریوں میں سے ایک چودھری حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ حضرت عبداللہ بن جعفر سے علی رضی اللہ عنہ کے خلاف مدد مانگ (کوئی سفارش) مانگ رہا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کی سفارش کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی ضرورت پوری فرما دی، چودھری نے آپ کو چالیس ہزار درہم ہدیہ میں بھیجے اور اس کے ساتھ کچھ اور چیزیں، مجھے نہیں معلوم وہ کیا تھا، جب وہ سب کچھ حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھے گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے جس چودھری کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سفارش فرمائی تھی اس نے آپ رضی اللہ عنہ کے لئے بھیجا ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : واپس اس کو بھیج دو ، ہم اہل بیت نیکی فروخت نہیں کیا کرتے۔