کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جلوہ کے وقت نحل کے بارے میں
حدیث نمبر: 22126
٢٢١٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم بن بشير عن يونس عن الحسن أنه سئل عن النحل عند الجلوة، فقال: ليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے منہ دکھائی کے وقت کچھ دینے کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22126
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22126، ترقيم محمد عوامة 21253)
حدیث نمبر: 22127
٢٢١٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أزهر (١) عن ابن عون قال: كان محمد يكره أن ينحل الشيء المرأة لا يفي به.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ عورت کو منہ دکھائی کے وقت کچھ دینے کو ناپسند کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22127
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22127، ترقيم محمد عوامة 21254)
حدیث نمبر: 22128
٢٢١٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن ابن أبي عروبة عن قتادة أن أبا الخليل أوصى أن يدفع إلى امرأته (نحلا) (١) كان نحلها إياه تحرجا منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الخلیل نے وصیت فرمائی کہ میری بیوی کو تحفہ دیا جائے۔ انہوں نے وہ تحفہ اس کو حرج سمجھتے ہوئے (تنگ آ کر) دیا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22128
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22128، ترقيم محمد عوامة 21255)
حدیث نمبر: 22129
٢٢١٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (يزيد) (١) بن هارون عن حجاج عن مكحول قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أيما رجل تزوج امرأة على صداق أو عدة فهو لها إذا كان قبل عقدة النكاح، فإن حبا أهلها حباء بعد عقدة النكاح فهو لهم، وأحق ما (أكرم) (٢) به الرجل ابنته وأخته" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ مہر یا کسی وعدہ پر نکاح کرے تو اگر وہ وعدہ اور حق مہر نکاح سے قبل طے ہوگیا تھا تو وہ عورت کا حق ہے۔ اور اگر نکاح کے بعد مرد عورت کے گھر کے افراد کو کوئی چیز عطیہ کرتا ہے تو وہ ان کے لیے ہے اور آدمی کا جس چیز سے بھی اکرام کیا جائے اس کا سب سے زیادہ حق دار اس کی بیٹی اور بہن ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22129
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مكحول تابعي، أخرجه أحمد (٢٤٩٠٩)، وعبد الرزاق (١٠٧٤٣)، وأبو داود في المراسيل (٢١٢)، كما ورد من حديث عبد اللَّه بن عمرو، وأخرجه أحمد (٦٧٠٩)، وأبو داود (٢١٢٩)، والنسائي ٦/ ١٢٠، وابن ماجه (١٩٥٥)، وعبد الرزاق (١٠٧٣٩)، والبيهقي ٧/ ٢٤٨، والطحاوي في شرح المشكل (٤٤٧١)، كما ورد من حديث عائشة أخرجه أحمد (٢٤٩٠٩)، وعبد الرزاق (١٠٧٤٠)، والبيهقي (٧/ ٢٤٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22129، ترقيم محمد عوامة 21256)
حدیث نمبر: 22130
٢٢١٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن قتادة عن خلاس عن (عبيد اللَّه) (١) بن معمر أنه كان يقضى بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن معمر رحمہ اللہ اس کا حکم دیا کرتے تھے اور ایاس رحمہ اللہ اس کا حکم نہیں دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22130
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22130، ترقيم محمد عوامة 21257)
حدیث نمبر: 22131
٢٢١٣١ - وأن إياسًا كان يقضي بها.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22131
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22131، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 22132
٢٢١٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن قتادة أن شريحًا وابن أذينة كانا لا يجيزان الجلوة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ اور حضرت ابن اذنیہ رحمہ اللہ منہ دکھائی کی رقم کو ناجائز سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22132
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22132، ترقيم محمد عوامة 21258)
حدیث نمبر: 22133
٢٢١٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن مصعب عن الأوزاعي قال: سألت قتادة عن عطية (الجلوة) (١)، قال: تلك سمعة، لا تجوز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے منہ دکھائی کی رقم کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ سنی سنائی بات ہے اور جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22133
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22133، ترقيم محمد عوامة 21259)
حدیث نمبر: 22134
٢٢١٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن في ⦗٤٦٨⦘ الرجل (تجلى) (١) (عليه) (٢) امرأته فيقولون: لا (نريك) (٣) حتى تنحلها شيئًا، قال: هي واجبة عليه، يؤخذ بها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایسا شخص کہ جس کے لیے بیوی کو تیار کیا جائے اور لوگ اس شخص سے کہیں کہ ہم تجھ کو بیوی اس وقت تک نہیں دکھائیں گے جب تک کہ تو کوئی چیز عطیہ نہ کر دے۔ حسن رضی اللہ عنہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ عطیہ اس پر واجب ہے جو اس سے لیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22134
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22134، ترقيم محمد عوامة 21260)