کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر خرید و فروخت کرنے والوں کا اختلاف ہو جائے
حدیث نمبر: 22122
٢٢١٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة ويحيى بن سعيد عن محمد بن عجلان عن عون بن عبد اللَّه عن ابن مسعود قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا اختلف ⦗٤٦٥⦘ البيعان فالقول ما قال: البائع والمبتاع بالخيار" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر بائع اور مشتری کا اختلاف ہوجائے تو بائع کی بات معتبر ہے اور مشتری کو اختیار ہے اگر چاہے تو بیع کرے اور اگر چاہے تو ترک کر دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22122
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22122، ترقيم محمد عوامة 21249)
حدیث نمبر: 22123
٢٢١٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن إسماعيل بن سالم عن الشعبي قال: إذا اختلف البيعان وليس بينهما بينة و (المبيع) (١) قائم بعينه فالقول قول البائع، أو يترادان البيع، فإن كان (المبيع) (٢) قد استهلك فالقول قول المشتري، والبينة على البائع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر بائع اور مشتری کا اختلاف ہوجائے اور ان دونوں کے پاس گواہ نہ ہوں، اور مبیع بھی اپنی حالت پر قائم ہو تو بائع کا قول معتبر ہوگا، اور بیع ختم کردی جائے گی، اور اگر مبیع ہلاک ہوجائے تو مشتری کی بات مانیں گے اور بائع کے ذمہ گواہ قائم کرنا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22123
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22123، ترقيم محمد عوامة 21250)
حدیث نمبر: 22124
٢٢١٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن هشام عن ابن سيرين عن شريح أنه كان يقول في البيعين إذا اختلفا و (المبيع) (١) قائم بعينه: (سألهما) (٢) البينة، فإن أقام أحدهما البينة (أعطي) (٣) ببينته، وإن لم يكن لهما بينة استحلفهما، فإن جاءا (بها) (٤) جميعا رد البيع، وإن لم يحلفا رد البيع، (وإن) (٥) حلف أحدهما ونكل الآخر (أعطى) (٦) الذي حلف، وإن لم يكن ⦗٤٦٦⦘ (المبيع) (٧) قائما بعينه -أو قال: قد استهلك- يكلف البائع البينة، واليمين على المشتري.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر بائع اور مشتری کا اختلاف ہوجائے اور مبیع بھی بعینہ موجود ہو تو دونوں سے گواہ طلب کریں گے، اگر ان میں سے کسی ایک نے گواہ پیش کر دئیے تو اس کے گواہوں کی وجہ سے اس کو دے دیا جائے گا، اور اگر ان دونوں کے پاس گواہ نہ ہوں تو دونوں سے قسم اٹھوائی جائے گی، اور اگر دونوں قسم اٹھا لیں تو بیع ختم کردی جائے گی، اور اگر دونوں قسم اٹھانے سے انکار کردیں تو بھی بیع ختم کردیں گے، اور اگر ایک قسم اٹھا لے جبکہ دوسرا انکار کر دے تو جس نے قسم اٹھائی ہے اس کو دے دیا جائے گا، اور اگر مبیع بعینہ موجود نہ ہو یا وہ ہلاک ہوگیا ہو تو بائع کو گواہ کا مکلف بنائیں گے اور مشتری پر قسم اٹھانے کو لازم کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22124
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22124، ترقيم محمد عوامة 21251)
حدیث نمبر: 22125
٢٢١٢٥ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عمر بن هارون عن ابن جريج عن عطاء قال: قلت له رجلان يختلفان في بيع ليس بينهما بينة قال: يرد البيع إذا لم يستقيما (١) إن لم (تكن) (٢) لهما بينة] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ اگر بائع اور مشتری کا بیع میں اختلاف ہوجائے، تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر وہ سیدھے نہ ہوں اور ان کے پاس گواہ موجود نہ ہو تو بیع کو ختم کردیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22125
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22125، ترقيم محمد عوامة 21252)