٢٢٠٩٧ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن خالد الحذاء قال: سألت أبا قلابة عن المعلم يعلم ويأخذ أجرا فلم ير (به) (١) بأسا] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد الحذائ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ کیا معلم تعلیم دے کر اس پر اجرت لے سکتا ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر وہ اجرت لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
٢٢٠٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن معمر عن ابن طاوس عن أبيه أنه كان لا يرى بأسا أن يعلم المعلم ولا يشارط، فإن أعطي شيئًا أخذه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ معلم تعلیم دے اور ( اجرت) کی شرط نہ لگائے اگر اس کو کچھ دے دیا جائے تو اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں۔
٢٢٠٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مروان بن معاوية (١) عن عثمان بن الحارث عن الشعبي قال: (لا) (٢) يشترط العلم، وإن أعطي شيئا فليقبله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معلم شرط نہ لگائے اور اگر اس کو کچھ دیا جائے تو اس کو قبول کرلینا چاہیئے۔
٢٢١٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبوسعد) (١) محمد بن ميسر عن ابن جريج عن عطاء أنه كان لا يرى بأسًا أن يأخذ (المعلم) (٢) ما أعطي من (غير) (٣) (شرط) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ معلم کے اجرت لینے پر کوئی حرج نہیں سمجھتے اگر اس نے اس کی شرط نہ لگائی ہو۔
٢٢١٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن صدقة (١) الدمشقي عن (٢) الوضين ابن عطاء قال: كان بالمدينة ثلاثة معلمين يعلمون الصبيان، فكان عمر بن الخطاب يرزق كل (رجل) (٣) منهم خمسة عشر كل شهر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وضین بن عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں تیس معلمین بچوں کو تعلیم دینے پر مأمور تھے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہان میں سے ہر ایک معلم کو ماہانہ پندرہ ( درہم یا دینار) وظیفہ دیا کرتے تھے۔
٢٢١٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان يكره أن يشارط المعلمُ على تعليم (١) القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ معلم تعلیم قرآن پر اجرت لینے کی شرط لگائے۔
٢٢١٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن معمر بن موسى عن أبي جعفر أنه كره (للمعلم) (١) أن يشارط.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ معلم کے لئے اجرت کی شرط لگانے کو ناپسند فرماتے تھے۔
٢٢١٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن قال: لا بأس أن يأخذ على الكتابة أجرا، وكره الشرط.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معلم اگر کتابت پر کچھ اجرت لے لے تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن شرط لگانے کو ناپسند کرتے تھے۔
٢٢١٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إبراهيم بن نافع عن ابن طاوس عن أبيه أنه كره أن يعلم بشرط.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ معلم کے اجرت کی شرط لگانے کو ناپسند کرتے تھے۔
٢٢١٠٦ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا شعبة عن الحكم قال: ما علمت أن أحدًا كرهه؛ يعني أجر المعلم] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ کسی نے بھی معلم کے اجر لینے کو ناپسند کیا ہو۔
٢٢١٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد قال: أخبرنا شعبة عن معاوية بن قرة قال: إني لأرجو أن (يأجره) (١) اللَّه: يؤدبهم ويعلمهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید قوی ہے کہ اللہ پاک اس کو ضرور اجر عطاء فرمائے گا، وہ بچوں کو تعلیم اور ادب سیکھائے۔
٢٢١٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أيوب بن عائذ الطائي عن عامر قال: المعلم لا يشارط، فإن أهدي له (شيء) (١) فليقبله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معلم شرط تو نہ لگائے، ہاں اگر اس کو کچھ ہدیہ دیا جائے تو اس کو قبول کرلینا چاہیئے۔
٢٢١٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (١) مهدي (بن ميمون) (٢) عن ابن سيرين قال: كان بالمدينة معلم عنده من أبناء (أولئك الضخام) (٣)، قال: فكانوا يعرفون حقه في (النيروز) (٤) والمهرجان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ایک معلم تھے اس کے پاس اس بڑے آدمی ( سخی) کے بچے بھی پڑھتے تھے ۔ وہ نیروز اور مہرجان میں اس معلم کے حق کو سمجھتے تھے۔