کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ایک آدمی کوئی چیز خریدے اور پھر اس میں عیب نظر آئے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22072
٢٢٠٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو بكر) (١) بن عياش عن مطرف عن الشعبي قال: كان شريح يستحلف على الداء الذي لا يرى: على علمه، وعلى الظاهر: (البتة) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت شریح اس بیماری پر قسم دلوایا کرتے تھے جو نظر نہیں آسکتی، اس کے علم پر اور ظاہرپر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22072
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22072، ترقيم محمد عوامة 21200)
حدیث نمبر: 22073
٢٢٠٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن يحيى بن سعيد عن سالم أن ابن عمر باع غلاما بثمانمائة درهم، فوجد به المشتري عيبا فخاصمه إلى عثمان، قال: فسأله عثمان فقال: بعته بالبراءة، فقال: (أتحلف) (١) له لقد بعته وما به عيب تعلمه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے آٹھ سو درہم کا ایک غلام فروخت کیا، پھر مشتری کو اس میں عیب نظر آیا تو وہ یہ مقدمہ لے کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اسے براءت کے ساتھ بیچا تھا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ کیا تم اس بات کی قسم کھاتے ہو کہ تم نے اسے بیچا تھا تو اس وقت تمہیں اس میں کسی عیب کا علم نہیں تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22073
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22073، ترقيم محمد عوامة 21201)
حدیث نمبر: 22074
٢٢٠٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن عطاء في الرجل يشتري المتاع أو السلعة (فيجد) (١) به العيب، قال: يلتمس المبتاع البينة أنه كان عند البائع، فإن وجد وإلا استحلف البائع على علمه. - وقال عمرو بن دينار: يحلف على علمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کوئی سامان خریدے اور پھر اس میں عیب پائے تو خریدار کو اس بات پر گواہی کی ضرورت ہوگی کہ یہ عیب بائع کے پاس ہی تھا، اگر گواہی مل جائے تو ٹھیک وگرنہ بائع سے قسم لی جائے گی کہ اسے اس عیب کا علم نہ تھا، حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ علم کی قسم لی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22074
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22074، ترقيم محمد عوامة 21202)
حدیث نمبر: 22075
٢٢٠٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا زكريا عن عامر في رجل اشترى جارية وبها برص وليس (له) (١) شهود، قال: يحلف البائع باللَّه: ما باعها وبها برص.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے باندی خریدی اور پھر دیکھا کہ اس میں چیچک کی بیماری تھی اور خریدار کے پاس گواہ بھی نہیں تھے تو بائع سے قسم لی جائے گی کہ جب اس نے بیچا تو چیچک نہیں تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22075
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22075، ترقيم محمد عوامة 21203)
حدیث نمبر: 22076
٢٢٠٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: [حدثنا وكيع قال: حدثنا] (١) عمر بن [ذر] (٢) قال: كان القاسم بن عبد الرحمن يستحلف الرجل ما يدفعه عن حق (يعلمه) (٣) له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن ذر فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم بن عبد الرحمن اس بات پر قسم لیا کرتے تھے کہ بائع نے جب اس چیز کو حوالے کیا تو اس کے عیب کا اسے علم نہیں تھا، حضرت شعبی یمین مرسلہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا گناہ اس پر ہے جو جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22076
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22076، ترقيم محمد عوامة 21204)
حدیث نمبر: 22077
٢٢٠٧٧ - وقال الشعبي في اليمين المرسلة: إنما إثمه وبره على ما تعمد.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22077
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22077، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 22078
٢٢٠٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا حماد بن سلمة عن (الحسن) (١) ابن عطاء (المدني) (٢) عن أبيه أن رجلا باع رجلا سلعة، فادعى المشتري عيبا، فخاصمه إلى عثمان بن عفان، فقال المشتري: أحلف باللَّه: ما بعتني، (عيبا) (٣) فقال البائع: أحلف باللَّه: لقد بعتك وما أعلم بها عيبا، قال: فقال عثمان: أنصفك الرجل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء مدینی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کچھ سامان بیچا، پھر مشتری نے عیب کا دعویٰ کردیا، اور وہ یہ جھگڑا لے کر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا، مشتری نے کہا کہ اللہ کی قسم کھاؤ کہ جب تم نے مجھے بیچا تھا تو اس میں کوئی عیب نہیں تھا، بائع نے کہا کہ میں قسم کھاتا ہوں کہ جب میں نے تمہیں یہ چیز بیچی تھی تو مجھے اس میں کسی عیب کا علم نہیں تھا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس آدمی نے تم سے انصاف کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22078
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22078، ترقيم محمد عوامة 21205)
حدیث نمبر: 22079
٢٢٠٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن (حباب) (١) قال: أخبرني الزبير بن (جنادة) (٢) قال: سألت سالمًا عن أرض بيضاء اشتريتها ممن يملك رقبتها (لأبني) (٣) ⦗٤٥٤⦘ فيها قال: لا بأس، قال: فقلت يؤدي عنها الخراج، قال: لا بأس، قلت: أقر بالصغار، قال: إنما ذلك في رؤوس الرجال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر بن جنادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے سوال کیا کہ کیا میں خراج والی بنجر زمین کو کھیتی باڑی کے لئے خرید سکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، میں نے کہا کہ کیا اس کا خراج ادا کیا جائے گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، میں نے کہا کہ میں چھوٹوں کے لئے اقرار کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ یہ بات مردوں کے سروں میں ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22079
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22079، ترقيم محمد عوامة 21206)