کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کچھ لوگ اونٹ پر لدے کسی سامان تجارت میں شریک ہوں تو اس کی فروخت کا طریقہ
حدیث نمبر: 22051
٢٢٠٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن مغيرة عن إبراهيم في القوم يشتركون في العدل قال: لا بأس أن يبيع بعضهم من بعض قبل أن (يقتسموا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کچھ لوگ اونٹ پر لدے کسی سامان تجارت میں شریک ہوں تو اس کی فروخت ان میں سے ایک آدمی تقسیم سے پہلے کرسکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22051
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22051، ترقيم محمد عوامة 21179)
حدیث نمبر: 22052
٢٢٠٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن أبي عدي (١) عن ابن عون عن ابن سيرين قال: سألته عن متاع بين رجلين يبيع أحدهما نصيبه من قبل أن يقاسمه قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اگر ایک سامان میں دو آدمی شریک ہوں تو کیا ان میں سے ایک آدمی اپنی حصے کو تقسیم سے پہلے فروخت کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کچھ حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22052
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22052، ترقيم محمد عوامة 21180)
حدیث نمبر: 22053
٢٢٠٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو بن دينار عن عطاء عن ابن عباس قال: يتخارج الشريكان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ دونوں شریک اپنا اپنا سامان نکال لیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22053
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22053، ترقيم محمد عوامة 21181)
حدیث نمبر: 22054
٢٢٠٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفى عن أيوب عن محمد أنه كان لا يرى بأسا أن يبيع الرجل المتاع قبل أن يقسمه.
مولانا محمد اویس سرور
محمد اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی سامان کو تقسیم سے پہلے فروخت کردے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22054
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22054، ترقيم محمد عوامة 21182)
حدیث نمبر: 22055
٢٢٠٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سهل بن يوسف عن عمرو عن الحسن قال: كان يكره (بيع) (١) ما (يقدر) (٢) على قسمته حتى يقسم، فإذا كان شيء لا يقدر على قسمته فلا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس بات کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ ایسی چیز کو تقسیم سے پہلے بیچنا مکروہ ہے جس میں تقسیم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہو، اور جس میں تقسیم کا اندازہ نہ لگایا جاسکتا ہو اسے تقسیم سے پہلے فروخت کرنے میں کچھ حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22055
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22055، ترقيم محمد عوامة 21183)
حدیث نمبر: 22056
٢٢٠٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب [الخفاف] (١) عن ابن (أبي) (٢) عروبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب أنه كان لا يرى بأسًا أن يبيع الشريك من شريكه ما لم يقاسمه خلا الكيل والوزن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ تقسیم سے پہلے سامان میں ایک شریک اپنا حصہ فروخت کردے، البتہ کیلی اور موزونی چیزوں میں ایسا نہیں ہوسکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22056
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22056، ترقيم محمد عوامة 21184)