کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص آزاد کرنے کی نیت سے غلام خریدے تو کیا طریقہ ہے؟
حدیث نمبر: 22044
٢٢٠٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن الجريري عن أبي عبد اللَّه (الجسري) (١) جسر عنزة قال: قلت لمعقل بن يسار: الرجل منا يزيد أن يعتق ⦗٤٤٦⦘ المعتق، قال: إذا اشتريت معتقا (تريد) (٢) أن تعتقه فلا تشترط لأهله العتق فإنها عقدة من الرق؛ ولكن اشتره (ساكتا) (٣)، (إن) (٤) شئت أمسكت، وإن شئت أعتقت (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد اللہ جسری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معقل بن یسار سے کہا کہ ہم میں سے ایک آدمی غلام کو آزاد کرنے کے لئے خریدنا چاہتا ہے تو وہ کیا طریقہ اختیار کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب تم کسی غلام کو آزاد کرنے کی نیت سے خریدو تو اس کے مالک سے آزادی کا تذکرہ کرکے نہ خریدو، بلکہ خاموشی سے خریدو پھر اگر چاہو تو روک لو اور اگر چاہو تو اسے آزاد کردو۔
حدیث نمبر: 22045
٢٢٠٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية قال: حدثت بهذا الحديث أيوب فقال: إنها ليست (بتامة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے مذکورہ حدیث کا ذکر ایوب سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ معاملہ مکمل نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 22046
٢٢٠٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن الشيباني (عن الشعبي) (١) أنه كان يقول في رجل كانت عليه رقبة فاشتراها و (اشترط) (٢) عليه أن يعتقها، قال: فكره ذلك وقال: ليست بتامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرمایا کرتے تھے کہ اگر ایک آدمی پر غلام کا آزاد کرنا لازم تھا، اس نے غلام خریدا اور خریدتے ہوئے اس پر آزاد کرنے کی شرط لگائی گئی تو یہ مکروہ ہے اور یہ معاملہ مکمل نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 22047
٢٢٠٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ کسی غلام کو خریدا اور اس کو آزاد کرنا بیع کی شرط میں شامل تھا تو یہ معاملہ سلیمہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 22048
٢٢٠٤٨ - وعن (ابن) (١) أبي خالد عن الشعبي قالا: إذا اشتراها واشترط عتقها: كانا لا (يريانها) (٢) سليمة.
حدیث نمبر: 22049
٢٢٠٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم في الرجل (تكون) (١) عليه الرقبة الواجبة فيشتريها: فلا يشترط أنه يشتريها للعتق.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی پر غلام کا آزاد کرنا واجب تھا، پھر اس نے غلام خریدا تو خریدتے ہوئے آزاد کرنے کی شرط نہیں لگائے گا۔
حدیث نمبر: 22050
٢٢٠٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن (هارون بن موسى قال: أخبرني علي بن زائدة عن نافع عن ابن عمر) (١) أنه سئل عن الرجل يشتري الجارية فيشترط مولاها عتقها، قال: الأجر لمولاها الذي اشترط (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص باندی خریدے اور اس کے آقا کے ساتھ اس کو آزاد کرنے کی شرط طے کرے تو اس کی آزادی کا ثواب اس کے آقا کو ملے گا۔