حدیث نمبر: 21996
٢١٩٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا ارتهن الرجل الأرض فليس له أن يعمل فيها (١)، (فإن عمل فيها شيئًا) (٢) حسب لصاحب الأرض من رهنه (مثل) (٣) أجر مثلها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب ایک آدمی نے دوسرے کے پاس کوئی چیز بطور رہن کے رکھوائی تو وہ اس میں کام کاج نہیں کرسکتا، اگر وہ اس میں کوئی کام کرتا ہے تو زمین والے کو اس زمین کا پورا پورا کرایہ ادا کرنا ہوگا۔
حدیث نمبر: 21997
٢١٩٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن المبارك عن معمر عن ابن طاوس عن أبيه في رجل رهن امرأته أرضًا بصداقها فأكلت من الغلة، قال: (لا) (١) (يحسب) (٢) عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے مہر کے بدلے اپنی بیوی کے پاس اپنی زمین بطور رہن کے رکھوائی اور عورت نے اس کا غلہ کھایا تو یہ اس کے مہر میں سے شمار نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 21998
٢١٩٩٨ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (ابن أبي زائدة) (١) عن زكريا عن عامر في رجل ارتهن مملوكة لها (ابن) (٢) أرضعت له، قال: يحسب (لها) (٣) أجر مثلها بما أرضعت] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی باندی رہن رکھوائی، اس کا ایک بیٹا تھا جسے اس نے دودھ پلایا، تو اس کے دودھ پلانے کا اجر شمار کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 21999
٢١٩٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن شعبة عن الحكم عن إبراهيم قال: إذا انتفع من الرهن بشيء قاصه بقدر (١) ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کسی آدمی نے رہن شدہ چیز سے استفادہ کیا تو اس کا حساب لگایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 22000
٢٢٠٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا حسن عن مغيرة عن إبراهيم في رجل ارتهن دارًا أو غلاما فاستغله، قال: الغلة من الرهن.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی کے پاس گھر رہن کے طور پر رکھوایا یا غلام رکھوایا اور اس نے اسے استعمال کیا تو وہ فائدہ رہن میں سے شمار ہوگا۔