کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر عورت اپنے خاوند کو کوئی چیز دے تو واپس لے سکتی ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 21986
٢١٩٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن محمد بن (عبيد اللَّه) (١) الثقفي قال: كتب عمر بن الخطاب أن النساء يعطين أزواجهن رغبة ورهبة، فأيما امرأة أعطت زوجها شيئا فأرادت أن تعتصره (٢) فهي أحق به (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے حکام کے نام ایک خط میں لکھا کہ عورتیں اپنے خاوندوں کو اپنی مرضی سے کوئی چیز دینا چاہیں تو دے سکتی ہیں، اگر کوئی عورت اپنے خاوند کو کوئی چیز دینے کے بعد واپس لینا چاہے تو وہ اس کی زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 21987
٢١٩٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن مغيرة عن عامر قال: لا ترجع المرأة في هبتها ولا يرجع الرجل في هبته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ عورت اپنے ہبہ میں رجوع نہیں کرسکتی اور آدمی بھی اپنی ہبہ کردہ چیز میں رجوع نہیں کرسکتا۔
حدیث نمبر: 21988
٢١٩٨٨ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم في الرجل والمرأة: ليس لواحد منهما أن يرجع فيما وهب لصاحبه] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ میاں بیوی میں سے کوئی اپنی ہبہ کردہ چیز میں رجوع نہیں کرسکتا۔
حدیث نمبر: 21989
٢١٩٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الكريم الجزري عن عمر بن عبد العزيز في الزوج والمرأة ليس لواحد منهما: أن يرجع فيما وهب لصاحبه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں کہ میاں بیوی میں سے کوئی اپنی ہبہ کردہ چیز میں رجوع نہیں کرسکتا۔
حدیث نمبر: 21990
٢١٩٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن أشعث عن ابن سيرين قال: جاءت امرأة تخاصم زوجها إلى شريح في شيء أعطته إياه فقال الرجل: أليس قد قال اللَّه تعالى: ﴿فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَرِيئًا﴾ [النساء: ٤]، فقال شريح: لو طابت به نفسها (لم تخاصمك) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ایک عورت اپنے خاوند کا جھگڑا لے کر حضرت شریح کے پاس آئی، اس نے اپنے خاوند کو کوئی چیز دی تھی اب واپس لینا چاہتی تھی، آدمی نے کہا کہ کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتے ہیں : اگر عورتیں تمہیں اپنے دل کی خوشی سے کوئی چیز دے دیں تو اسے سہولت سے کھالو۔ حضرت شریح نے فرمایا کہ اگر وہ خوشی سے دیتی تو تجھ سے جھگڑا نہ کرتی۔
حدیث نمبر: 21991
٢١٩٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن ابن عون عن ابن سيرين عن شريح: شاهدان ذوا عدل أنها تركته (من) (١) غير كره ولا هوان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ اس صورت میں دو عادل آدمی گواہی دیں کہ عورت نے مرد پر اپنے حق کو بغیر کسی زبردستی اور مجبوری کے چھوڑا ہے۔
حدیث نمبر: 21992
٢١٩٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن زمعة عن ابن طاوس عن أبيه طاوس قال: إذا وهبت المرأة لزوجها ثم رجعت فيه يرد (إليها) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ اگر عورت خاوند کو کوئی چیز ہبہ کرکے اس میں رجوع کرنا چاہے تو وہ چیز اسے واپس کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 21993
٢١٩٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن إبراهيم قال: (إذا) (١) أعطت المرأة زوجها وهي طيبة النفس فهو جائز.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب عورت نے اپنے خاوند کو دل کی خوشی سے کوئی چیز دی تو یہ درست ہے، حضرت منصور فرماتے ہیں کہ یہ بات مجھے تو اچھی نہیں لگتی۔
حدیث نمبر: 21994
٢١٩٩٤ - وقال منصور: لا يعجبني.
حدیث نمبر: 21995
٢١٩٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة ووكيع عن إسماعيل عن عامر قال: يجوز لها ما أعطاها (زوجها) (١)، ولا (يجوز) (٢) له ما أعطته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ خاوند جو چیز بیوی کو دے وہ اس کے لئے جائز ہے اور بیوی جو چیز خاوند کو دے وہ اس کے لئے درست نہیں۔