کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ایک آدمی کا دوسرے آدمی پر قرض ہو، اگر مقروض قرض خواہ کو کوئی ہدیہ دے تو کیا اسے قرض میں شمار کیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 21916
٢١٩١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن إبراهيم -وهو ابن علية- عن يحيى بن يزيد الهنائي قال: سألت أنس بن مالك عن الرجل يهدي له ⦗٤٢١⦘ غريمُه فقال: إن كان يهدي له قبل ذلك فلا بأس، وإن لم يكن يهدي له قبل ذلك فلا يصلح (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی مقروض اپنے قرض خواہ کو کوئی چیز ہدیہ میں دے تو کیا وہ اس کے لئے درست ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر پہلے بھی دیا کرتا تھا تو کوئی حرج نہیں اور اگر پہلے نہیں دیا کرتا تھا تو پھر درست نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21916
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ يحيى بن يزيد الهنائي صدوق على الصحيح، ذكره ابن حبان في الثقات، وقال أبو حاتم: شيخ وروى عنه جمع، وروى نحوه الطحاوي في شرح المشكل ١١/ ١١٦، والبيهقي في شعب الإيمان (٥٥٣٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21916، ترقيم محمد عوامة 21057)
حدیث نمبر: 21917
٢١٩١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن (أيوب عن) (١) عكرمة قال: قال ابن عباس: إذا أقرضت قرضا فلا (تقبلنّ) (٢) هدية راع ولا (ركوب) (٣) دابة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب تم کسی کو کوئی قرض دو تو اس سے ہرگز ہدیہ قبول نہ کرو، حتی کہ بکری کے پائے بھی قبول نہ کرو اور قرض خواہ کی سواری پر سوار بھی مت ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21917
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21917، ترقيم محمد عوامة 21058)
حدیث نمبر: 21918
٢١٩١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن الأسود بن قيس عن كلثوم بن (الأقمر) (١) عن زر بن حبيش قال: قال أبي: إذا أقرضت قرضا (فجاء) (٢) صاحب القرض يحمله ومعه هدية فخذ منه (قرضك) (٣) ورد عليه هديته (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تم کسی کو قرض دو اور صاحب قرض تمہارے پاس کوئی ہدیہ لے کر آئے تو اس میں سے اپنے قرضے کے برابر لے لو اور باقی اسے واپس کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21918
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21918، ترقيم محمد عوامة 21059)
حدیث نمبر: 21919
٢١٩١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم عن علقمة قال: إذا كان للرجل على الرجل الدين فأهدى إليه ليؤخر عنه، فليحسبه من دينه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ جب کسی آدمی کا کسی پر قرضہ ہو اور اس کی طرف کوئی چیز بطور ہدیہ کے پیش کی جائے کہ وہ قرض کی وصولی میں کچھ تاخیر کردے تو اس کو قرض میں سے شمار کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21919
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21919، ترقيم محمد عوامة 21060)
حدیث نمبر: 21920
٢١٩٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور (و) (١) مغيرة عن إبراهيم قال: إذا كان ذلك قد جرى بينهما قبل الدين، يدعوه (ويدعوه) (٢) الآخر (يكافِئه) (٣) فلا بأس بذلك ولا يحسبه من دينه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر ان کے درمیان قرض سے پہلے دعوتوں اور ہدایا کا سلسلہ تھا تو کچھ حرج نہیں اور اسے قرض میں سے شمار نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21920
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21920، ترقيم محمد عوامة 21061)
حدیث نمبر: 21921
٢١٩٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء قال: إذا كانا يتهاديان قبل ذلك فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر قرض سے پہلے بھی ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرتے تھے تو کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21921
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21921، ترقيم محمد عوامة 21062)
حدیث نمبر: 21922
٢١٩٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن عاصم عن ابن سيرين أن (أبيا) (١) كان له على عمر دين فأهدى إليه هدية فردها، فقال عمر: إنما الربا على من أراد أن يربي (و) (٢) ينسئ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابی رضی اللہ عنہ کا کچھ قرض حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر لازم تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف کچھ ہدیہ بھیجا تو انہوں نے واپس کردیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سود تو اس صورت میں ہوتا ہے جب وہ مال کو بڑھا کر واپس کرنا چاہے یا ادائیگی میں تاخیر کرانا چاہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21922
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21922، ترقيم محمد عوامة 21063)
حدیث نمبر: 21923
٢١٩٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا كثير (بن) (١) هشام عن جعفر بن برقان عن زيد بن أبي أنيسة أن عليًا سئل عن الرجل يقرض الرجل القرض ويهدي إليه، قال: ذلك الربا العجلان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ابی انیسہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ بات درست ہے کہ ایک آدمی دوسرے کو قرض دے تو پھر اس سے ہدیہ قبول کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ بھی سود کی ایک شکل ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21923
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21923، ترقيم محمد عوامة 21064)
حدیث نمبر: 21924
٢١٩٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن عبد الملك بن أبي (غنية) (١) عن أبيه عن الحكم قال: كان يكره أن يأكل الرجل (من بيت الرجل) (٢) وله عليه دين، إلا أن يحسبه من دينه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اس بات کو بھی مکروہ خیال فرماتے تھے کہ کسی ایسے آدمی کے گھر سے کھائیں جس پر ان کا قرضہ ہو، البتہ اگر قرض میں سے شمار کرے تو کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21924
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21924، ترقيم محمد عوامة 21066)
حدیث نمبر: 21925
٢١٩٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن أبي إسحاق عن (ابن) (١) عمر قال: يقاصه (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ اس سے اس کا بدلے لے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21925
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21925، ترقيم محمد عوامة 21065)
حدیث نمبر: 21926
٢١٩٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة وعبدة بن سليمان عن صالح ابن حي عن عامر قال: إن كان (لك) (١) على الرجل الدين فلا تضيفه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ جب کسی آدمی نے تمہارا قرضہ دینا ہو تو اس کی مہمان نوازی قبول نہ کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21926
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21926، ترقيم محمد عوامة 21067)
حدیث نمبر: 21927
٢١٩٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة (عن ابن عون) (١) عن ابن سيرين قال: ذكر لابن مسعود رجل أقرض رجلا (دراهم) (٢) واشترط ظهر فرسه قال: ما أصاب من ظهر فرسه فهو ربا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے تذکرہ کیا گیا کہ ایک آدمی نے دوسرے کو ایک درہم کا قرض دیا اور اس پر شرط عائد کی کہ اس کے گھوڑے پر سواری کرے گا، یہ کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ گھوڑے پر جتنی سواری کرے گا وہ سب سود ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21927
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21927، ترقيم محمد عوامة 21068)
حدیث نمبر: 21928
٢١٩٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شهاب بن محمد العامري عن عثمان بن الأسور عن مجاهد قال: قلت له: إذا كان لي على رجل درهم أستعير منه دابة أو أطلب منه معروفا قال: لا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن اسود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے سوال کیا کہ اگر میں نے کسی آدمی کو کچھ دراہم دے رکھے ہوں تو کیا میں اس سے سواری مانگ سکتا ہوں یا کوئی اور خیر طلب کرسکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21928
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21928، ترقيم محمد عوامة 21069)
حدیث نمبر: 21929
٢١٩٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن هشام عن ابن سيرين قال: كانوا يقولون قضاء و (حمد) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اسلاف فرمایا کرتے تھے کہ یہ فیصلہ ہے اور قابل تعریف فیصلہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21929
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21929، ترقيم محمد عوامة 21070)