حدیث نمبر: 21904
٢١٩٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص وأبو خالد عن حجاج عن الحسن بن (حكيم) (١) عن زيد بن ثابت (٢)،
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت اور حضرت شریح فرماتے ہیں کہ مدبر غلام کو بیچا نہیں جاسکتا۔
حدیث نمبر: 21905
٢١٩٠٥ - و (عن) (١) حجاج عن الحكم عن شريح قالا: (المدبر) (٢) لا يباع.
حدیث نمبر: 21906
٢١٩٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد وأبو معاوية عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: المدبرة لا يبيعها سيدها، ولا يزوجها، ولا يهبها، وولدها بمنزلتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ مدبرہ باندی کو نہ تو اس کا آقا بیچ سکتا ہے، نہ اس کی شادی کراسکتا ہے اور نہ اسے ہبہ کرسکتا ہے، اس کا بچہ اسی کے حکم میں ہوگا۔
حدیث نمبر: 21907
٢١٩٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن عثمان بن حكيم قال: سألت سالما: أيحل لي أن أبيعها؟ قال: لا، قلت: أمهرها؟ قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن حکیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے سوال کیا کہ کیا میرے لئے اسے بیچنا جائز ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں، میں نے سوال کیا کہ کیا میں اس کی شادی کراسکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔
حدیث نمبر: 21908
٢١٩٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن (حصين) (١) عن الشعبي قال: المعتق عن دبر بمنزلة الملوك إلا أنه لا يباع ولا يوهب، (فإن) (٢) مات مولاه عتقُ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ مدبر غلام عام غلام کی طرح ہے، سوائے اس کے کہ اسے بیچا نہیں جاسکتا اور نہ ہی اسے ہبہ کیا جاسکتا ہے، جب اس کا آقا مرجائے تو وہ آزاد ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 21909
٢١٩٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن أنه كره بيع المعتق عن دبر [[إلا أن يصيب صاحبَه فقرٌ شديد.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ مدبر غلام کو بیچنا درست نہیں، البتہ اگر اس کے مالک کو شدید فقر لاحق ہوجائے تو پھر اسے بیچا جاسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 21910
٢١٩١٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن محمد أنه كره بيع المعتق عن دبر]] (١) إلا من نفسه] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
محمد نے مدبر غلام کی بیع کو مکروہ قرار دیا ہے، البتہ اگر وہ خود راضی ہو تو درست ہے۔
حدیث نمبر: 21911
٢١٩١١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام بن حرب عن أيوب وهشام عن محمد قال: لا يباع المدبر إلا من نفسه] (١).
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ مدبر غلام کو نہیں بیچا جاسکتا البتہ اگر وہ خودراضی ہو تو بیچ سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 21912
٢١٩١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يعلى عن عبد الملك عن عطاء قال: لا يبيعها إلا أن يحتاج إلى ثمنها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اس کو بیچ نہیں سکتا البتہ اگر اس کی قیمت کی احتیاج ہو تو بیچ سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 21913
٢١٩١٣ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن سلمة بن كهيل عن عطاء وأبي الزبير عن جابر أن النبي ﷺ باع (مدبرًا) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مدبر غلام کو فروخت فرمایا تھا۔
حدیث نمبر: 21914
٢١٩١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن جابر أن رجلًا دبر غلامًا فباعه رسول اللَّه ﷺ من ابن النحام: غلامًا قبطيا مات عام أول في إمارة ابن الزبير (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے ایک غلام کو مدبر بنایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ابن نحام سے خرید لیا۔ وہ ایک قبطی غلام تھا جس کا انتقال حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت کے ابتدائی دنوں میں ہوا۔
حدیث نمبر: 21915
٢١٩١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن أيوب عن نافع (أن) (١) ابن عمر كره بيع المدبر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مدبر کی بیع کو مکروہ قرار دیا۔