حدیث نمبر: 21836
٢١٨٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة قال: كان الحجاج يعطي الناس الرزق فيقول: (أصحاب دار) (١) الرزق: من شاء أخذ أربعة أجربة شعير بجريبين (من) (٢) حنطة الذي له، (فسألنا) (٣) إبراهيم والشعبي فقالا: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حجاج لوگوں میں غلہ تقسیم کرنے کو کہتا تھا کہ جو چار جرب جو کے بدلے د و جرب گندم لینا چاہے توا سے دے دو ، میں نے اس بارے میں ابراہیم اور حضرت شعبی سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21837
٢١٨٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن أشعث عن أبي الزبير عن ⦗٤٠٦⦘ جابر قال: إذا اختلف النوعان فلا بأس بالفضل يدا بيد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ جب دو نوعوں میں اختلاف ہوجائے تو ایک ہی وقت میں زیادتی کے ساتھ دینے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21838
٢١٨٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سالم أن ابن عمر كان لا يرى بأسا فيما يكال يدًا بيد (واحدا) (١) باثنين إذا (اختلف) (٢) ألوانه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ جب دو چیزوں کا رنگ مختلف ہو تو ایک ہی وقت میں ایک کے بدلے دو کالین دین کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21839
٢١٨٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن خالد عن أبي قلابة قال: إذا اختلف النوعان فبع كيف شئت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ جب انواع مختلف ہوجائیں توجی سے چاہو بیچ سکتے ہو۔
حدیث نمبر: 21840
٢١٨٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه كان لا يرى بأسا ببيع البر بالشعير يدًا بيد، أحدهما أكثر من الآخر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ گندم کو فی الفور ادائیگی کے ساتھ جو کے بدلے بیچا جائے کہ دونوں چیزوں میں سے ایک کم ہو اور ایک زیادہ۔
حدیث نمبر: 21841
٢١٨٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن مسلم بن يسار عن أبي الأشعث الصنعاني أن (عبادة بن الصامت) (١) قال: لا بأس ببيع الحنطة بالشعير، والشعير أكثر منه، يدًا بيد ولا يصلح نسيئة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فوری ادائیگی کے ساتھ گندم کو جو کے بدلے دینا جبکہ جو زیادہ ہو درست ہے، البتہ ادھار کے ساتھ درست نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 21842
٢١٨٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن (أنيس) (١) بن خالد التميمي قال: سألت عطاء عن الشعير بالحنطة اثنين بواحد يدًا بيد، قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انیس بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے گندم کے بدلے جو کی بیع کے بارے میں سوال کیا کہ ایک کے بدلے دو دیئے جاسکتے ہیں یا نہیں ؟ جبکہ فوری ادائیگی کے ساتھ ہوں، انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21843
٢١٨٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن أبيه عن أبي حازم عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الحنطة بالحنطة، والشعير بالشعير، يدًا بيد كيلا بكيل وزنا بوزن (لا بأس) (١) فمن زاد واستزاد فقد أربى إلا ما اختلفت ألوانه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ گندم کو گندم کے بدلے دینا، جو کو جو کے بدلے فوری ادائیگی کے ساتھ، ایک جیسے ماپ کے ساتھ اور ایک جیسے وزن کے ساتھ دینے میں کوئی حرج نہیں، اگر کسی نے زیادتی کی تو اس نے سود دیا، البتہ جن چیزوں کے رنگ مختلف ہوجائیں تو ان کی کمی زیادتی میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21844
٢١٨٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن خالد عن أبي قلابة عن (أبي) (١) الأشعث الصنعاني عن عبادة بن الصامت قال: قال رسول اللَّه ﷺ: (الذهب بالذهب والفضة بالفضة والبر بالبر والشعير بالشعير مثلا بمثل يدًا بيد، فإذا اختلفت هذه الأصناف فبيعوا كيف شئتم إذا كان يدًا بيد" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سونے کو سونے کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے، گندم کو گندم کے بدلے، جو کو جو کے بدلے برابر سرابر اور فوری ادائیگی کے ساتھ دینا ہوگا، جب ان کی اصناف میں اختلاف ہوجائے تو جیسے چاہو بیچ سکتے ہو، جبکہ ان کا فوری ادا ہونا ضروری ہے۔