کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی کسی چیز کا دعویٰ کرے، پھراس کے خلاف گواہی قائم ہوجائے تواس سے قسم لی جائے گی کہ اس نے اسے نہیں بیچا
حدیث نمبر: 21833
٢١٨٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن الحارث في الرجل يدعي الدابة في يد الرجل فيقول: ضلت مني، قال: لا أقول للشهود: إنه لم (يبع ولم يهب) (١)، ولكن إذا شهدت الشهود أنها دابته، ضلت منه، أحلّفه باللَّه: ما باع ولا وهب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی کسی آدمی کے پاس موجود سواری کے بارے میں یہ دعویٰ کرے کہ یہ میری سواری ہے جو کہ مجھ سے کھو گئی تھی تو میں گواہوں سے یہ نہیں کہوں گا کہ وہ گواہی دیں کہ نہ اس نے بیچی ہے اور نہ ہبہ کی ہے، بلکہ جب گواہ اس بات پر گواہی دے دیں گے کہ یہ اس کی سواری ہے جو گم گئی تھی تو میں مدعی سے قسم لوں گا کہ اس نے نہ اسے بیچا ہے اور نہ ہبہ کیا ہے۔
حدیث نمبر: 21834
٢١٨٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن أشعث عن ابن سيرين عن شريح قال: إذا شهدت الشهود أنها دابته، أحلفه باللَّه: ما أهلكت ولا أمرت (مهلكا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ جب گواہ گواہی دے دیں گے کہ یہ اس کی ہے تو میں اس سے قسم لوں گا کہ وہ قسم کھائے کہ نہ میں نے اسے ہلاک کیا ہے اور نہ میں نے ہلاک کرنے والے کو حکم دیا ہے۔
حدیث نمبر: 21835
٢١٨٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن بن صالح عن الأسود بن قيس عن حسان بن ثمامة أن حذيفة عرف (جملًا له) (١) فخاصم فيه إلى قاض من قضاة المسلمين، فصارت على حذيفة يمين في القضاء، فحلف باللَّه الذي لا إله إلا هو: ما باع ولا وهب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسان بن ثمامہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک اونٹ کو پہچان لیا اور مسلمانوں کے قاضی کے پاس مقدمہ دائر کیا، فیصلے میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ پر قسم لازم ہوئی تو انہوں نے اللہ کی قسم کھائی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ نہ انہوں نے اسے بیچا ہے اور نہ ہبہ کیا ہے۔