کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اجیر(کرائے پر کام کرنے والا) نقصان کی صورت میں ضامن ہوگا یا نہیں ہوگا؟
حدیث نمبر: 21710
٢١٧١٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن جابر عن القاسم أن عليًا وشريحًا كانا يضمنان الأجير] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت شریح اجیر کو ضامن قرار دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 21711
٢١٧١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن (١) سماك عن (ابن) (٢) عبيد (ابن) (٣) الأبرص أن عليا ضمن (نجارا) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بڑھئی کو ضامن قرار دیا۔
حدیث نمبر: 21712
٢١٧١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن حجاج عن حصين الحارثي عن الشعبي عن الحارث عن علي قال: من (أخذ أجرًا) (١) فهو ضامن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے مزدوری لی وہ ضامن ہے۔
حدیث نمبر: 21713
٢١٧١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد عن حجاج عن الحكم عن علي مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 21714
٢١٧١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن خالد الأحول عن عبد اللَّه بن عتبة بن مسعود قال: الأجير مضمون له أجره ضامن لما استودع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اجیر کو اس کی اجرت کی ضمانت دی جائے گی اور وہ اپنے پاس موجود چیز کا بھی ضامن ہوگا۔
حدیث نمبر: 21715
٢١٧١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: إذا أخذ الأجير المشترك شيئا ضمن.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب اجیر مشترک نے کوئی چیز لی تو وہ ضامن ہوگا۔
حدیث نمبر: 21716
٢١٧١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم عن عبد الرحمن بن يزيد قال: كان إذا اشترى الشيء استأجر له من يحمله، قال الحكم: يضمن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ جب اس نے کوئی چیز خریدی تو وہ اس سے اجر لے گا جس نے کام کرایا ہے اور حضرت حکم فرماتے ہیں کہ وہ ضامن ہوگا۔
حدیث نمبر: 21717
٢١٧١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا شعبة عن منصور عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد بنحو من حديث وكيع.
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 21718
٢١٧١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أزهر السمان عن ابن عون عن محمد أنه كان لا يضمن الاجير إلا من (تضييع) (١).
مولانا محمد اویس سرور
محمد صرف نقصان کی صورت میں اجیر کو ضامن قرار دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 21719
٢١٧١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن هشام عن ابن سيرين قال: (كل) (١) أجير أخذ أجرا فهو ضامن إلا من عدو مكابر أو أجير يده مع يدك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ہر وہ اجیر جو اجرت لے وہ ضامن ہے، البتہ دشمن اور وہ اجیر ضامن نہیں جس کا ہاتھ تیرے ہاتھ کے ساتھ ہے۔
حدیث نمبر: 21720
٢١٧٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن إسماعيل بن سالم عن الشعبي قال: ليس على أجير المشاهرة (١) ضمان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ مشاہرہ والے اجیر پر ضمان لازم نہیں۔
حدیث نمبر: 21721
٢١٧٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن ابن سيرين (عن شريح) (١) أنه كان لا يضمن الملاح غرقا ولا (حرقا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح ملاح کو کشتی کے ڈوب جانے یا جل جانے کی صورت میں ضامن قرار نہیں دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 21722
٢١٧٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا حسن عن مطرف عن صالح بن (دينار) (١) أن عليًا ﵁ كان (٢) يضمن الأجير المشترك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ اجیر مشترک کو ضامن قرار دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 21723
٢١٧٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع نا الأعمش عن أبي الهيثم (العطار) (١) قال: استاجرت حمالا يحمل لي شيئا فكسره، فخاصمته إلى شريح فضمنه وقال: إنما استأجرك لتبلغه ولم يستأجرك لتكسره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہیثم عطار کہتے ہیں کہ میں نے ایک مزدور کو کرائے پر لیا کہ وہ میرا بوجھ اٹھائے، اس نے میرا سامان توڑ دیا، میں اس کا مقدمہ لے کر حضرت شریح کی عدالت میں گیا تو انہوں نے اسے ضامن قرار دیا اور فرمایا کہ انہوں نے تمہیں اس لئے اجرت پر لیا تھا تاکہ تم سامان پہنچاؤ اس لئے نہیں لیا تھا کہ تم اسے توڑ دو ۔
حدیث نمبر: 21724
٢١٧٢٤ - حدثنا أبو بكر (١) قال: حدثنا [وكيع قال: حدثنا] حسن بن صالح عن زهير العبسي أن رجلا استأجر رجلا يعمل على بعير فضربه ففقأ عينه فخاصمه إلى شريح فضمنه وقال: إنما استأجرك لتصلح ولم يستأجرك لتفسد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہیر عنسی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو اونٹ پر کام کرنے کے لئے کرائے پر لیا، اس نے اونٹ کو ایسا مارا کہ اس کی آنکھ پھوڑ دی، وہ آدمی اس کا مقدمہ لے کر حضرت شریح کی عدالت میں گیا تو حضرت شریح نے اسے ضامن قرار دیا اور فرمایا کہ تمہیں کام سنوارنے کے لئے اس نے مزدوری پر رکھا تھا کام بگاڑنے کے لئے نہیں رکھا تھا !