حدیث نمبر: 21645
٢١٦٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر وابن أبي (زائدة) (١) عن صدقة ابن المثنى عن جده (رياح) (٢) (بن) (٣) الحارث (عن) (٤) عمار بن ياسر قال: العبد خير من العبدين، والبعير خير من البعيرين، والثوب خير من الثوبين، (لا بأس به) (٥) يدا ⦗٣٦٤⦘ (بيد) (٦) إنما الربا في النساء، إنما الربا في النساء (٧) إلا ما كيل ووزن (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک غلام دو غلاموں سے بہتر ہے، ایک اونٹ دو اونٹوں سے بہتر ہے، ایک کپڑا دو کپڑوں سے بہتر ہے، فوری ادائیگی کے ساتھ ہونے میں کوئی حرج نہیں، سودا ادھار میں ہوتا ہے، کیلی اور وزنی چیزوں کے علاوہ میں۔
حدیث نمبر: 21646
٢١٦٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن أبي (بشر) (١) عن نافع عن ابن عمر أنه اشترى ناقة بأربعة أبعرة (بالربذة) (٢) فقال لصاحبه: اذهب فانظر، فإن رضيت فقد وجب البيع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مقام ربذہ میں چار اونٹوں کے بدلے چار اونٹنیاں خریدیں، پھر آپ نے اپنے بائع سے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور دیکھو اگر تم راضی ہو جاؤ تو بیع لازم ہوگئی۔
حدیث نمبر: 21647
٢١٦٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن عبد العزيز بن رفيع عن محمد بن علي بن الحنفية قال: قلت له: أبيع بعيرًا ببعيرين إلى أجل؟ قال: لا، ولا بأس به يدا (بيد) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد العزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن علی رضی اللہ عنہابن حنفیہ سے کہا کہ کیا میں ایک اونٹ کو دو اونٹنیوں کے بدلے میں ایک مخصوص مدت تک کے لیے بیچ سکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں البتہ اگر فوری ادائیگی ہو تو ٹھیک ہے۔
حدیث نمبر: 21648
٢١٦٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن حجاج عن أبي الزبير عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الحيوان واحد باثنين لا (يصلح) (١) "، يعني (نسيئة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک حیوان کو دو کے بدلے بیچنا اکٹھا (ادھار کے ساتھ) درست نہیں۔
حدیث نمبر: 21649
٢١٦٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن (الحجاج) (١) عن الحكم ⦗٣٦٥⦘ قال: (نهى) (٢) رسول اللَّه ﷺ (٣) عن الحيوان واحد باثنين يعني نسيئة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جانور کو دو کے بدلے (ادھار کے ساتھ) بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 21650
٢١٦٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن يزيد ابن عبد اللَّه بن قسيط قال: باع عليٌ بعيرا ببعيرين فقال له الذي اشتراه منه: سلم لي بعيري حتى آتيك ببعيريك، فقال علي: لا تفارق يدي (خطامه) (١) حتى (تأتي) (٢) ببعيري (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن عبد اللہ بن قسیط فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ کو دو اونٹوں کے بدلے فروخت کیا۔ خریدنے والے نے کہا کہ آپ میرا اونٹ میرے حوالے کردیں اور میں آپ کو آپ کے دو اونٹ لا دیتا ہوں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرا ہاتھ اس کی لگام کو اس وقت تک نہیں چھوڑے گا جب تک تم میرے پاس میرے اونٹ نہیں لے آتے۔
حدیث نمبر: 21651
٢١٦٥١ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود الطيالسي عن جرير بن حازم عن قيس ابن (سعد) (١) عن عطاء عن جابر أنه لم ير بأسا بالبعير بالبعيرين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ایک اونٹ کے بدلے دو اونٹ دینے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21652
٢١٦٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا حماد بن خالد عن ابن أبي ذئب عن الزهري عن سعيد بن المسيب قال: لا بأس بالبعير بالبعيرين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ایک اونٹ کے بدلے دو اونٹ دینے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21653
٢١٦٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم ⦗٣٦٦⦘ والشعبي، قال: قلت (لهما) (١): ما تريان في طيلسان بطيلسانين (و) (٢) في (مستقة) (٣) (بمستقتين) (٤)؟ فقال الشعبي: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں ابراہیم اور حضرت شعبی سے سوال کیا کہ ایک چادر کے بدلے دو چادریں اور ایک وسق کی چیز کے بدلے دو وسق والی چیز دینے کا کیا حکم ہے ؟ حضرت شعبی نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، ابراہیم نے اسے مکروہ قرار دیا۔
حدیث نمبر: 21654
٢١٦٥٤ - وكرهه إبراهيم.
حدیث نمبر: 21655
٢١٦٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن إسماعيل بن أمية عن رجل عن سعيد بن المسيب قال: لا بأس (١) بالقبطية بالقبطيتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ایک قبطی کپڑے کے بدلے د و قبطی کپڑے لینے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21656
٢١٦٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن أبي جعفر عن علي قال: لا بأس بالحلة (بالحلتين) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک جوڑے کے بدلے دو جوڑے لینے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21657
٢١٦٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا (علي بن) (١) مسهر عن الشيباني عن (الشعبي) (٢) قال: كل (شيء) (٣) لا يكال ولا يوزن فلا بأس أن يعطى واحد (ا) (٤) باثنين أو ثلاثة أو أقل (أو) (٥) أكثر يدًا بيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ہر وہ چیز جس کا کیل اور وزن نہیں ہوتا اسے ایک کے بدلے دو یا تین، یا کم یا زیادہ فوری ادائیگی کے ساتھ لینے دینے میں کچھ حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21658
٢١٦٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن (١) أبي زائدة عن حجاج عن أبي الزبير عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الحيوان (واحد) (٢) بواحد لا بأس (به) (٣) يد (ا) (٤) بيد ولا خير فيه نساء" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک جانو رکے بدلے ایک جانور فوری ادائیگی کے ساتھ لین دین کرنے میں کچھ حرج نہیں اور ادھار کے ساتھ کرنے میں کوئی خیر نہیں۔
حدیث نمبر: 21659
٢١٦٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن أبي زائدة عن ابن عون عن أنس بن سيرين قال: قلت لابن عمر: البعير بالبعيرين (١)، (قال) (٢): [يدًا بيد؟ فقلت: لا، (إلى أجل) (٣)، قال: فكرهه] (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ کیا ایک اونٹ کو دواونٹوں کے بدلے دینا درست ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ فوری ادائیگی کے ساتھ ہوگا ؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا۔
حدیث نمبر: 21660
٢١٦٦٠ - [حدثنا أبو بكر قال: نا حماد (بن خالد) (١) عن مالك بن أنس عن الزهري قال: لا بأس بالبعير بالبعيرين نسيئة] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ ایک اونٹ کو دو اونٹوں کے بدلے ادھار کے ساتھ دینے میں کچھ حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21661
٢١٦٦١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحيم بن سليمان [عن (مجالد) (١) عن ⦗٣٦٨⦘ قيس] (٢) عن (الصنابحي) (٣) (الأحمسي) (٤) قال: أبصر النبي ﷺ ناقة (حسنة) (٥) فقال: (ما هذه الناقة؟) (٦) فقال: يا رسول اللَّه! إني ارتجعتها ببعيرين من حواشي الإبل قال: فنعم إذن (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صنابح احمسی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خوبصورت اونٹنی دیکھی اور فرمایا کہ یہ اونٹنی کیسے حاصل کی ؟ اونٹنی کے مالک نے عرض کیا کہ میں نے دو اونٹوں کے بدلے حاصل کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر توٹھیک ہے۔
حدیث نمبر: 21662
٢١٦٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن سعيد عن قتادة عن الحسن عن سمرة قال: نهى رسول اللَّه ﷺ (عن) (١) الحيوان بالحيوان نسيئة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے بدلے جانور ادھار کے ساتھ دینے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 21663
٢١٦٦٣ - حدثنا [أبو بكر قال: نا] (١) وكيع قال: نا ابن أبي ذئب عن يزيد ابن عبد اللَّه بن قسيط عن أبي الحسن (البراد) (٢) عن علي قال: لا يصلح الحيوان ⦗٣٦٩⦘ (بالحيوان) (٣) ولا (الشاة بالشاتين) (٤) إلا يدا بيد (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک جانور دو جانوروں کے بدلے اور ایک بکری دو بکریوں کے بدلے صرف نقد ادائیگی کے ساتھ ہی دینا درست ہے۔
حدیث نمبر: 21664
٢١٦٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا [عبدة] (١) بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: سئل عمر عن الشاة بالشاتين إلى (الحيا) (٢) يعني (الخصب) (٣) فكره ذلك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایک بکری کے بدلے دو بکریاں دینے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا۔
حدیث نمبر: 21665
٢١٦٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن إسرائيل عن إبراهيم بن عبد الأعلى عن سويد بن غفلة قال: لا بأس بالفرس بالفرسين، والدابة بالدابتين (يدا بيد) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک گھوڑے کے بدلے دو گھوڑے اور ایک سواری کے بدلے دوسواریاں فوری ادائیگی کے ساتھ دینے میں کچھ حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21666
٢١٦٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن (عيينة) (١) قال: سألت أيوب عن الثوب بالثوبين نسيئة قال: كان محمد يكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عیینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایوب رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ کیا ایک کپڑے کے بدلے دو کپڑے ادھار کے ساتھ دینا درست ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ محمد اسے مکروہ قرار دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 21667
٢١٦٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عفان قال: نا حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس (أن) (١) النبي ﷺ اشترى صفية بسبعة (أرؤس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو چار غلاموں کے بدلے خریدا۔
حدیث نمبر: 21668
٢١٦٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال: نا سفيان عن أبي (الوازع) (١) قال: سمعت ابن عمر يقول: من يبيعني بعيرا ببعيرين (٢) من يبيعني ناقة (بناقتين) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وازع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو آواز لگاتے سنا کہ مجھے کون ایک اونٹ کے بدلے دو اونٹ بیچے گا ؟ مجھے کون دو اونٹنیوں کے بدلے ایک اونٹنی بیچے گا ؟
حدیث نمبر: 21669
٢١٦٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد عن هشام عن ابن سيرين قال: لا بأس بالبيضة بالبيضتين والجوزة بالجوزتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ایک انڈے کے بدلے دو انڈے ایک اخروٹ کے بدلے دو اخروٹ دینے میں کچھ حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21670
٢١٦٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال: (نا) (١) سفيان عن عبد اللَّه مولى مجاهد عن مجاهد قال: لا بأس (بالبيضة بالبيضتين) (٢) يدا بيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ایک انڈے کے بدلے دو انڈے ایک اخروٹ کے بدلے دو اخروٹ دینے میں کچھ حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21671
٢١٦٧١ - حدثنا أبو بكر قال: نا ملازم بن عمرو عن زفر (بن) (١) يزيد عن أبيه قال: سألت أبا هريرة عن شراء الشاة بالشاتين إلى أجل (فنهاني) (٢) (وقال: لا) (٣) إلا يدا بيد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زفر بن یزید کے والد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک مدت تک کے لئے ایک بکری کے بدلے دو بکریاں خریدنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے منع کیا اور فرمایا کہ یہ درست نہیں، البتہ اگر نقد ادائیگی کے ساتھ ہو تو درست ہے۔