کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر آدمی کسی چیز کو خرید کر واپس کرے اور ساتھ اضافی دراہم دے تو یہ کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 21632
٢١٦٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلي بن عبد الأعلى (عن داود) (١) عكرمة عن ابن عباس قال: ذلك الباطل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ باطل ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21632
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21632، ترقيم محمد عوامة 20787)
حدیث نمبر: 21633
٢١٦٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن أبي زائدة عن أبيه عن عامر قال: لا تأخذ سلعتك وتأخذ معها فضلا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اپنے سامان کے ساتھ اضافی معاوضہ واپس نہ لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21633
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21633، ترقيم محمد عوامة 20788)
حدیث نمبر: 21634
٢١٦٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة قال: سألت إبراهيم عن رجل باع شاة من رجل ثم بدا له من قبل أن يأخذها فقال: (أ) (١) قلني، فأبى وقال: ⦗٣٦١⦘ أعطني (درهما) (٢) و (أقيلك) (٣) فكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا کہ اگر ایک آدمی دوسرے سے ایک بکری خریدے اور بکری پر قبضہ سے پہلے اس کی رائے بدل جائے اور وہ اس بیع کو ختم کرنا چاہے، بائع بیع کو ختم کرنے سے انکار کرے اور کہے کہ تم مجھے ایک درہم دو پھر میں اقالہ کروں گا، اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21634
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21634، ترقيم محمد عوامة 20789)
حدیث نمبر: 21635
٢١٦٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن ابن أبي عروبة عن أبي معشر عن إبراهيم أن علقمة باع رجلًا دابة، فأراد صاحبها أن يردها ويرد معها (درهما) (١)، فقال علقمة: هذه دابتنا فما حقنا في دراهمك؟.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے ایک آدمی کو ایک سواری بیچی، خریدار نے ارادہ کیا کہ وہ یہ سواری واپس کر دے اور ساتھ کچھ دراہم بھی دے، حضرت علقمہ نے اس سے فرمایا کہ یہ سواری تو ہماری ہے اور تیرے دراہم پر ہمارا کیا حق ہے ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21635
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21635، ترقيم محمد عوامة 20790)
حدیث نمبر: 21636
٢١٦٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم عن الأسود أنه كره أن يردها ويرد معها (درهما) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود نے اس بات کو مکروہ قرار دیا کہ سامان واپس کرے اور اس کے ساتھ درہم بھی دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21636
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21636، ترقيم محمد عوامة 20791)
حدیث نمبر: 21637
٢١٦٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن أبي (معبد) (١) قال: سمعت جابر بن زيد سئل عن رجل ابتاع (دارًا) (٢) (أو) (٣) عقارا، فأراد أن يقيله، فأبى، فترك له عشرة (دراهم) (٤) أو عشرين درهما فأقاله، قال: لا بأس بذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی نے دکان یا زمین کو خریدا، پھر وہ اقالہ کرنا چاہتا ہے لیکن بائع راضی نہیں ہوتا، پھر وہ بائع کے لیے دس یا بیس دراہم چھوڑ دیتا ہے تو ایسا کرنا کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21637
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21637، ترقيم محمد عوامة 20792)
حدیث نمبر: 21638
٢١٦٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن الشيباني عن الشعبي أنه كره أن يردها ويرد معها (درهما) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی نے اس بات کو مکروہ قرار دیا کہ چیز واپس کرے اور ساتھ درہم بھی دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21638
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21638، ترقيم محمد عوامة 20793)
حدیث نمبر: 21639
٢١٦٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن أسامة بن زيد قال: سمعت سعيد بن المسيب وسئل عن رجل اشترى بعيرا، فندم المبتاع فأراد أن يرده (ويرد) (١) معه ثمانية (دراهم) (٢)، فقال سعيد: لا بأس به، إنما الربا فيما يكال ويوزن (مما) (٣) يؤكل ويشرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی نے اونٹ خریدا پھر اسے اس معاملے پر افسوس ہوا، وہ اونٹ واپس کرتا ہے ساتھ آٹھ دراہم بھی دیتا ہے، ایسا کرنا کیسا ہے ؟ حضرت سعید نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، سود ان چیزوں میں ہوتا ہے جن کا کیل یا وزن کیا جاتا ہے یا جب کھائی اور پی جاتی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21639
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21639، ترقيم محمد عوامة 20794)
حدیث نمبر: 21640
٢١٦٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن ابن عون عن (ابن) (١) سيرين قال: جاء رجلان فقاما عند شريح ثم (تحاورا) (٢)، فقال له أحدهما: اشهدوا أني قد (قبلت) (٣) (جملي) (٤) وثلاثين درهما، فسكت شريح، قال: فأراه لو (كرهه لأنكره) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ دو آدمی حضرت شریح کے پاس آئے اور گفتگو شروع کی، ان میں سے ایک نے کہا کہ آپ گواہی دیں کہ میں نے اپنا اونٹ اور تیس درہم قبول کرلیے، حضرت شریح خاموش رہے، میرے خیال میں اگر وہ اس معاملے کو ناپسند کرتے تو انکار فرما دیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21640
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21640، ترقيم محمد عوامة 20795)
حدیث نمبر: 21641
٢١٦٤١ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن أبي زائدة عن يزيد عن الحسن وابن سيرين أنهما لم يريا بذلك بأسا (١) إذا (استغلى) (٢) الرجل البيع.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت ابن سیرین اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، جبکہ آدمی بیع کے بھاؤ بڑھائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21641
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21641، ترقيم محمد عوامة 20796)
حدیث نمبر: 21642
٢١٦٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن يزيد بن إبراهيم عن الوليد بن عبد اللَّه بن أبي مغيث عن مجاهد عن ابن عمر في رجل اشترى بعيرا فأراد أن يرده ⦗٣٦٣⦘ ويرد معه (درهما) (١) فقال: لا بأس به (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی ایک اونٹ خریدے اور پھر اسے کچھ دراہم کے ساتھ واپس کر دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21642
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21642، ترقيم محمد عوامة 20797)
حدیث نمبر: 21643
٢١٦٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن يزيد بن إبراهيم عن الحسن وابن سيرين في الرجل يشتري السلعة (ثم) (١) (يستغليها) (٢) (قالا) (٣): لا بأس أن يردها ويرد معها درهما.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت ابراہم فرماتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کسی چیز کو دراہم کے ساتھ واپس کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21643
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21643، ترقيم محمد عوامة 20798)
حدیث نمبر: 21644
٢١٦٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: (إذا) (١) تغيرت عن حالها فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب اس کی حالت بدل گئی تو ایسا کرنے میں کچھ حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21644
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21644، ترقيم محمد عوامة 20799)