حدیث نمبر: 21624
٢١٦٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) عبدة بن سليمان عن سعيد بن أبي عروبة عن خالد الحذاء عن أبي معشر عن إبراهيم عن ابن مسعود (٢) كان لا يرى بأسًا أن يبيع الرجل المتاع العشرة (اثني) (٣) عشرة ما لم يأخذ للنفقة ربحا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس بات کو درست قرار دیتے تھے کہ آدمی دس کی چیز کو بارہ میں بیچے جب تک کہ خرچ پر نفع نہ لے۔
حدیث نمبر: 21625
٢١٦٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) عبدة (٢) عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب أنه كره إذا باع الرجل المتاع مرابحة أن (٣) يأخذ للنفقة ربحا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب نے اس بات کو مکروہ قرار دیا کہ آدمی بیع مرابحہ کرتے ہوئے خرچ پر بھی نفع لے۔
حدیث نمبر: 21626
٢١٦٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن الحسن أنه كان لا يرى بذلك بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 21627
٢١٦٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن محمد أنه كان لا يرى بأسا أن يأخذ للنفقة (ربحا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
محمد خرچ پر نفع لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 21628
٢١٦٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن خالد عن ابن سيرين قال: لا بأس أن يحسب النفقة على المتاع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ خرچ کو سامان میں شمار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21629
٢١٦٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن عبد الرحمن بن عجلان قال: قلت لإبراهيم: إنا نشتري المتاع، ثم (نزيد) (١) عليه (القصارة) (٢) والكراء، ثم (نبيعه) (٣) (بزيادة) (٤) قال: لا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن عجلان فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ ہم لوگ سامان خریدتے ہیں اور پھر اس پر بار برداری اور کرایہ وغیرہ ڈال کر اسے نفع کے ساتھ بیچتے ہیں کیا یہ درست ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کچھ حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21630
٢١٦٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا (عبيد اللَّه) (١) عن حنظلة عن طاوس أنه سئل عن الرجل يشتري (البر) (٢) (فيتكارى) (٣) له، أيأخذ له ربحا؟ قال: إذا بيّن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی گندم خریدتا ہے اور پھر اس کا کرایہ بھی ادا کرتا ہے، کیا اس پر نفع لے گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب اس کو بیان کر دے تو کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21631
٢١٦٣١ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يبيع مرابحة، يأخذ ربحا (للكراء) (١)؟ قال: يأخذ ربح ما ⦗٣٦٠⦘ (نقد) (٢) في الأرض التي خرج منها إن شاء، وما (نقد) (٣) في (البلد) (٤) الذي باع فيه فلا يأخذ (ربحه) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی کسی چیز کو نفع کے ساتھ بیچتا ہے اور کرائے پر بھی منافع لیتا ہے تو کیا یہ درست ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جو کچھ اس نے اس زمین پر خرچ کیا ہے جس سے وہ نکلا ہے اس کا نفع تو لے گا اور جو کچھ اس نے اس شہر میں خرچ کیا جہاں بیچا ہے اس کا نفع نہیں لے گا۔