کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: باغ کے پاس سے گذرنے والا اس کا پھل کھا سکتا ہے
حدیث نمبر: 21516
٢١٥١٦ - حدثنا (شريك) (١) عن جابر عن أبي جعفر أن النبي ﷺ كان إذا خرج أمر (عليًا) (٢) أن (يثلم) (٣) الحيطان (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ جب کسی باغ کے پاس سے گذرتے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس کی دیواروں کے کنارے توڑنے کا حکم دیتے تاکہ پھل کھانے والا اندر جاسکے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21516
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف مرسل؛ أبو جعفر تابعي، وجابر ضعيف، وقال ابن معين: كذب، انظر: تاريخ ابن معين رواية الدوري (٣/ ٣٦٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21516، ترقيم محمد عوامة 20676)
حدیث نمبر: 21517
٢١٥١٧ - حدثنا معتمر بن سليمان قال: سمعت ابن (١) (حكم) (٢) يقول: (حدثتني جدتي) (٣) عن (عم) (٤) أبي: رافع بن عمرو الغفاري قال: كنت (وأنا ⦗٣٢٧⦘ غلام) (٥) أرمي نخل (الأنصار) (٦) فقيل للنبي ﵇: إن ها هنا (غلاما) (٧) يرمي نخلنا فأتي (٨) النبي ﷺ (٩) فقال: "يا غلام! لم (ترمي) (١٠) النخل؟ " قلت: آكل، قال: "فلا ترم النخل، وكل مما سقط في أسفلها"، ثم مسح رأسي، وقال: "اللهم اشبع بطنه" (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رافع بن عمرو غفاری کہتے ہیں کہ میں چھوٹا لڑکا تھا اور انصار کے درختوں پر پھل اتارنے کے لیے پتھر مارتا تھا، حضور ﷺ سے ذکر کیا گیا کہ ایک لڑکا ہمارے درختوں پر پتھر مارتا ہے، پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اے لڑکے ! تم درختوں پر پتھر کیوں مارتے ہو ؟ میں نے کہا کہ میں کھجوریں کھانا چاہتا ہوں، حضور ﷺ نے فرمایا کہ درختوں پر پتھر نہ مارو، جو نیچے گریں وہ کھالو، پھر آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا کہ اے اللہ اس کا پیٹ بھر دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21517
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21517، ترقيم محمد عوامة 20677)
حدیث نمبر: 21518
٢١٥١٨ - حدثنا ابن أبي زائدة عن محمد بن إسحاق عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: سمعت رجلًا من مزينة يسأل النبي ﷺ عن الثمار ما كانت في (أكمامها) (١) فقال: "من أكل بفيه ولم يتخذ (كيسة) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
قبیلہ مزینہ کے ایک آدمی نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ خوشوں پر لگے ہوئے پھلوں کو کھانے کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ جو شخص وہی کھالے اور تھیلے میں نہ بھرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21518
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21518، ترقيم محمد عوامة 20678)
حدیث نمبر: 21519
٢١٥١٩ - حدثنا معتمر عن قرة عن هارون بن (رئاب) (١) عن سنان بن سلمة قال: (حدثنا) (٢) - (و) (٣) هو بالبحرين- قال: كنت في (٤) أغيلمة (نلقط) (٥) البلح، ففجأنا عمر (فسعى) (٦) الغلمان، فقمت فقلت: يا أمير المؤمنين [(إنه) (٧) مما ألقت الريح، فقال: (أرينه) (٨)، (فلما أريته) (٩) (إياه) (١٠) قال: (انطلق) (١١)، قلت: يا أمير المؤمنين] (١٢) (ترى) (١٣) هؤلاء الغلمان الساعة، فإنك إذا انصرفت (عني) (١٤) انتزعوا ما معي، (قال) (١٥): فمشى معي، حتى بلغت مأمني (١٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سنان بن سلمہ فرماتے ہیں کہ میں کچھ لڑکوں کے ساتھ کچی کھجوریں توڑ رہا تھا کہ اچانک حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لے آئے، لڑکے بھاگ گئے اور میں وہاں کھڑا ہوگیا، میں نے کہا اے امیر المؤمنین ! میں ان کھجوروں کو اٹھا رہا تھا جو ہوا سے گرگئی ہیں، آپ نے فرمایا کہ مجھے دکھاؤ میں نے دکھایا تو آپ نے مجھے جانے کا حکم دیا، میں نے عرض کیا کہ جو لڑکے آپ نے ابھی دیکھے تھے وہ مجھ سے یہ کھجوریں چھین لیں گے، اس لیے آپ میرے ساتھ چلیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے گھر تک میرے ساتھ تشریف لے گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21519
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن جرير في مسند علي ٣/ ٢٥٠ (٣٨٩)، وابن سعد في الطبقات الكبرى ٧/ ١٢٤، وابن أبي الدنيا في العيال (٢٤٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21519، ترقيم محمد عوامة 20679)
حدیث نمبر: 21520
٢١٥٢٠ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن (العلاء) (١) بن المسيب قال: سألت حمادًا عن الذي يسقط من النخل ليس لك؟ قال: فقال (٢) إبراهيم: إن المهاجرين الأولين كانوا لا يرون بأكله بأسا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علاء بن مسیب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے درختوں سے گری ہوئی کھجوروں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ مہاجرین ان کے کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21520
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21520، ترقيم محمد عوامة 20680)
حدیث نمبر: 21521
٢١٥٢١ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن منصور عن مجاهد (عن) (١) أبي عياض قال: قال (عمر) (٢): إذا مررت ببستان فكل، ولا تتخذ (خبنة) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تم کسی باغ کے پاس سے گزرو تم باغ کا پھل کھا سکتے ہو لیکن ساتھ اٹھا کرلے جا نہیں سکتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21521
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21521، ترقيم محمد عوامة 20681)
حدیث نمبر: 21522
٢١٥٢٢ - حدثنا جرير عن منصور عن أبي وائل قال: كانا نغزو (فنصيب) (١) من الثمار ولا نرى بذلك بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ جب ہم کسی غزوہ میں جاتے اور ہمیں پھل ملتے تو ہم ان کے کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21522
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21522، ترقيم محمد عوامة 20682)
حدیث نمبر: 21523
٢١٥٢٣ - حدثنا عباد بن العوام عن سفيان (بن) (١) حسين قال: سألت الحسن وابن سيرين قلت إني (ربما) (٢) خرجت إلى (الأبلة) (٣) (فنمر) (٤) (بالنخل) (٥) ⦗٣٣٠⦘ فنأكل منه (وبالشجر) (٦)، (كلاهما) (٧) رخص لي فيه و (قالا) (٨): ما لم تحمل أو تفسد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان بن حسین کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن اور حضرت ابن سیرین سے سوال کیا کہ ہم بعض اوقات کھجور کے درختوں کے پاس سے گزرے تو ان میں کھانا کیسا ہے ؟ ان دونوں حضرات نے اس کی رخصت دی اور فرمایا کہ اگر ساتھ لے کر نہ جاؤ اور خراب نہ کرو تو کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21523
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21523، ترقيم محمد عوامة 20683)
حدیث نمبر: 21524
٢١٥٢٤ - حدثنا عبد الأعلى عن (الجريري) (١) عن أبي (نضرة) (٢) عن أبي سعيد قال: إذا مررت ببستان فناد صاحبه، (فإن) (٣) أجابك فاستطعمه، وإن لم يجبك فكل ولا تفسد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ جب کسی باغ کے پاس سے گذرو تو اس کے مالک کو آواز دو ، اگر وہ جواب دے تو اس سے مانگ کر کھاؤ اور اگر جواب نہ آئے تو کھاؤ لیکن خراب نہ کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21524
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21524، ترقيم محمد عوامة 20684)
حدیث نمبر: 21525
٢١٥٢٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن عاصم (عن) (١) (أبي) (٢) زينب قال: سافرت في (جيش) (٣) مع أبي بكرة وأبي (برزة) (٤) وعبد الرحمن بن سمرة (فكنا) (٥) نأكل من الثمار (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زینب فرماتے ہیں کہ میں ایک لشکر میں حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ ، حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، ہم پھلوں کو کھایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21525
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21525، ترقيم محمد عوامة 20685)
حدیث نمبر: 21526
٢١٥٢٦ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين عن (زر) (١) عن إبراهيم قال: كنت أسافر معه (فكان) (٢) يأكل من (الثمار) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ذر فرماتے ہیں کہ میں ابراہیم کے ساتھ سفر کیا کرتا تھا وہ پھلوں کو کھالیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21526
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21526، ترقيم محمد عوامة 20686)
حدیث نمبر: 21527
٢١٥٢٧ - حدثنا وكيع عن هشام (بن) (١) (سعد) (٢) عن عمرو بن شعيب قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من مر بحائط فليأكل ولا يحمل" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کھجور کے باغ کے پاس سے گذرے تو اس کو کھا سکتا ہے لیکن ساتھ لے جا نہیں سکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21527
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عمرو تابعي، وانظر: ما تقدم برقم [٢١٥١٨].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21527، ترقيم محمد عوامة 20687)
حدیث نمبر: 21528
٢١٥٢٨ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن أبي جعفر قال: لا بأس (بثمار) (١) أهل الذمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ ذمیوں کا پھل کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21528
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21528، ترقيم محمد عوامة 20688)
حدیث نمبر: 21529
٢١٥٢٩ - حدثنا وكيع قال: (نا) (١) يزيد بن هارون عن ابن سيرين قال: سألت عبيدة عن ابن السبيل يمر بالثمرة فقال: يأكل ولا يفسد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سے سوال کیا اگر مسافر پھلوں کے باغ کے پاس سے گذرے تو کیا اس میں سے کھا سکتا ہے انہوں نے فرمایا کہ کھا سکتا ہے لیکن خراب نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21529
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21529، ترقيم محمد عوامة 20689)
حدیث نمبر: 21530
٢١٥٣٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أيوب عن محمد قال: سألت عبيدة فذكر مثله.
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے بھی یونہی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21530
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21530، ترقيم محمد عوامة 20690)
حدیث نمبر: 21531
٢١٥٣١ - حدثنا وكيع قال: (نا) (١) شعبة عن (أبي) (٢) عمران الجوني قال: سمعت جندب البجلي يقول: كنا نغزو مع أصحاب رسول اللَّه ﷺ ونحن نفعل كما ⦗٣٣٢⦘ يفعلون، (فنأكل) (٣) من الثمرة، و (نأخذ) (٤) (العلج) (٥)، فيدلنا من القرية إلى القرية من غير أن (نشاركهم) (٦) في بيوتهم (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جندب بجلی کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہ م کے ساتھ جہاد کرتے تھے، جو وہ کرتے تھے وہ ہم بھی کیا کرتے تھے، ہم پھل کھاتے تھے اور راستہ کے لیے غلام کرایہ پر لیتے تھے جو ہمیں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک پہنچاتا البتہ ہم ان کے ساتھ ان کے گھروں میں شریک نہیں ہوتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21531
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٩٦٠٩)، والطبراني (١٦٧٥)، والبيهقي ٩/ ١٩٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21531، ترقيم محمد عوامة 20691)
حدیث نمبر: 21532
٢١٥٣٢ - حدثنا غندر عن شعبة (١) قال: سألت حمادًا عن المسافر يأكل من الثمرة، فقال: إذا ظلموهم الأمراء فأحب إليّ أن (لا) (٢) يأكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے سوال کیا کیا مسافر باغ کے پھل کھا سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ امراء لوگوں پر ظلم کریں تو میرے خیال میں بہتر ہے کہ وہ نہ کھائے اور میں نے حضرت حکم سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ کھالے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21532
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21532، ترقيم محمد عوامة 20692)
حدیث نمبر: 21533
٢١٥٣٣ - وسألت الحكم فقال: كل.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21533
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21533، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 21534
٢١٥٣٤ - حدثنا شبابة قال: نا شعبة عن أبي (بشر) (١) عن عباد بن شرحبيل رجل من بني (غبر) (٢) قال: (٣) أصابتنا سنة فدخلت حائطا فأخذت سنبلا ففركته، فجاء صاحب الحائط (وضربني) (٤) وأخذ كسائي، فأتينا النبي ﷺ فقال: " (ما أطعمته (إذ) (٥) كان جائعا أو (ساغبا) (٦)، ولا علمته (إذ) (٧) كان جاهلا؟ " ⦗٣٣٣⦘ و (أخذ) (٨) ثوبه فرده (على) (٩) صاحبه (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
بنو نمیر کے ایک صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ قحط سالی کے دنوں میں میں ایک باغ میں داخل ہوا اور میں نے ایک خوشہ توڑ لیا، اتنے میں باغ کا مالک آگیا اور اس نے مجھے مارا اور میری چادر چھین لی، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے فرمایا کہ جب وہ بھوکا تھا تو تو نے اس کو کیوں نہ کھلایا اور جب وہ نہیں جانتا تھا تو تو نے اس کو کیوں نہیں بتایا، پھر آپ نے کپڑا مجھے واپس دلوادیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21534
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٧٥٢١)، وأبو داود (٢٦٢١)، وابن ماجه (٢٢٩٨)، والطيالسي (١١٦٩)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٦٥٤)، الحاكم ٤/ ١٣٣، والبيهقي ١٠/ ٢، والنسائي (٥٤٠٩)، والضياء ٨ / (٢٩٨)، وابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ١٥١، وابن عبد البر في الاستذكار ٨/ ٥٠٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21534، ترقيم محمد عوامة 20693)