کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک کھیتی کے کٹنے اور سالانہ وظیفہ ملنے کی مالیت کی بدلے بیع کرنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 21456
٢١٤٥٦ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم أنه كان يكره أن يشتري إلى (العطاء) (١) والحصاد ولكن يسمي شهرًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ سالانہ وظیفہ یا فصل کی کٹائی کے بدلے بیع کرے۔ وہ فرماتے ہیں کہ مہینہ مقرر کرنا ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 21457
٢١٤٥٧ - حدثنا شريك عن عبد الكريم عن عطاء (أو) (١) عكرمة عن ابن عباس قال: لا تسلم إلى (عصير) (٢) (ولا إلى عطاء) (٣) ولا إلى (الأندر) (٤). يعني (البيدر) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عصیر تک کے لیے، سالانہ وظیفے تک کے لیے اور کھجور کی اترائی تک کے لیے بیع نہ کرو۔
حدیث نمبر: 21458
٢١٤٥٨ - حدثنا ابن عيينة عن عبد الكريم عن عكرمة عن ابن عباس بنحو منه (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 21459
٢١٤٥٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (بكير) (١) عن سعيد بن جبير قال: لا (تبع) (٢) إلى الحصاد، (و) (٣) لا إلى (الجداد) (٤)، ولا إلى (الدراس) (٥)، ولكن (سم) (٦) شهرا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ کھیتی کے کٹنے کے لیے، کھجوروں کے اترنے تک کے لیے اور سالانہ وظیفے تک لیے بیع نہ کرو بلکہ مہینہ مقرر کرو۔
حدیث نمبر: 21460
٢١٤٦٠ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن ابن عون قال: سئل محمد عن (البيع) (١) إلى العطاء فقال: (ما) (٢) (أدري) (٣) ما هو؟.
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے سالانہ وظیفے تک کے لیے بیع کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ یہ کیا چیز ہے۔
حدیث نمبر: 21461
٢١٤٦١ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عطاء (أنه) (١) (كرهه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء نے سالانہ وظیفے تک کی بیع کو مکروہ قرار دیا۔
حدیث نمبر: 21462
٢١٤٦٢ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن بن صالح عن مغيرة عن الحكم أنه كره البيع إلى العطاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم نے سالانہ وظیفے تک کی بیع کو مکروہ قرار دیا۔
حدیث نمبر: 21463
٢١٤٦٣ - حدثنا وكيع قال: (نا) (١) (ضابئ) (٢) بن عمرو قال: سألت سالما عن السلف إلى إدراك الثمرة فقال: لا، إلا إلى أجل معلوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضابی بن عمرو کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے پھلوں کے پک جانے تک کے لیے بیع کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ درست نہیں۔ معلوم مدت تک کے لیے بیع کرو۔
حدیث نمبر: 21464
٢١٤٦٤ - حدثنا ابن فضيل عن (بكير) (١) بن عتيق قال: قلت لسعيد بن جبير أشتري إلى الحصاد وإلى (الدراس) (٢) قال: (اشتر) (٣) كيلا معلوما إلى أجل معلوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکیر بن عتیق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے سوال کیا کہ کیا میں کھیتی کے کٹنے یا پھلوں کے اترنے تک کے لیے بیع کرسکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں معلوم پیمانے اور معلوم مدت تک کے لیے بیع کرو۔