کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ایک آدمی دوسرے کو کسی مکان میں ٹھہرا لے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21314
٢١٣١٤ - حدثنا علي بن مسهر عن (عبد اللَّه) (١) عن نافع أن حفصة بنت عمر أسكنت أسماء بنت زيد حجرة لها حياتها، فلما توفيت حفصة قبض ابن عمر الحجرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہ نے اسماء بنت یزید کو ان کی پوری زندگی کے لیے اپنے کمرے میں ٹھہرایا۔ جب حضرت حفصہ کا انتقال ہوگیا تو وہ کمرہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حاصل کرلیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21314
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عبد اللَّه.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21314، ترقيم محمد عوامة 20483)
حدیث نمبر: 21315
٢١٣١٥ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن خالد الحذاء قال: كتب عمر بن عبد العزيز أن السكنى عارية. فإذا قال: هي له و (لعقبه) (١)، (فهي له و (لعقبه)) (٢) (٣) ما بقيت منهم امرأة، فإذا انقرضوا جميعا رجعت إلى ورثته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز نے خط میں لکھا کہ رہائش عاریہ کی چیز ہے۔ اگر رہائش دینے والا کہے کہ یہ اس کے لیے اور اس کے بعد آنے والوں کے لیے ہے تو یہ اس کے لیے اور اس کے بعد آنے والوں کے لیے ہوگی۔ جب تک ان میں سے ایک عورت بھی باقی رہے۔ اگر ایک عورت بھی باقی نہ رہے تو ورثاء کی طرف لوٹ جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21315
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21315، ترقيم محمد عوامة 20484)
حدیث نمبر: 21316
٢١٣١٦ - حدثنا ابن أبي زائدة عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يسكن الرجل له و (لعقبه) (١) ثم يموت. قال: لاتستطيع ورثته أن يخرجوه ولا عقبه ما بقي منهم أحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے کسی آدمی کو اور اس کے بعد والوں کو اپنے کسی مکان میں ٹھہرایا پھر وہ مرگیا تو ورثاء اسے اور اس کے بعد والوں کو نکال نہیں سکتے جب تک ان میں سے ایک فرد بھی باقی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21316
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21316، ترقيم محمد عوامة 20485)
حدیث نمبر: 21317
٢١٣١٧ - حدثنا وكيع عن السائب (بن) (١) عمر عن ابن أبي مليكة قال: كانت عائشة إذا أسكنت قالت: أسكنتك ما بدا لي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب کسی کو اپنے کسی مکان میں ٹھہراتیں تو فرماتیں کہ میں تمہیں اس وقت تک کے لیے ٹھہراتی ہوں جب تک مناسب سمجھوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21317
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21317، ترقيم محمد عوامة 20486)
حدیث نمبر: 21318
٢١٣١٨ - حدثنا ابن أبي زائدة عن حجاج عن عثمان ابن أخي شريح عن شريح قال: السكنى (على) (١) ما اشترط صاحبها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ کسی کو رہائش دینے کا معاملہ صاحب مکان کی صوابدید پر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21318
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21318، ترقيم محمد عوامة 20487)
حدیث نمبر: 21319
٢١٣١٩ - حدثنا حفص عن حجاج (عن عثمان) (١) عن شريح بنحوه.
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21319
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21319، ترقيم محمد عوامة 20488)
حدیث نمبر: 21320
٢١٣٢٠ - حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن والشعبي (قالا) (١): (السكنى) (٢) عارية.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ رہائش عاریہ کی چیز ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21320
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21320، ترقيم محمد عوامة 20489)
حدیث نمبر: 21321
٢١٣٢١ - (حدثنا) (١) هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: سألته عن رجل أسكن رجلا داره، فمات المسكِن و (المسكَن) (٢) قال: يرجع إلى (ورثة) (٣) المسكِن؛ قال: قلت: يا (أبا) (٤) عمران (أليس) (٥) كان (يقال) (٦): من ملك شيئا حياته فهو لورثته من بعده، قال: إنما (ذلك) (٧) في العمرى، فأما السكنى والغلة والعارية فإنها ترجع إلى ورثتها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ اگر ایک آدمی کسی کو اپنے گھر میں ٹھہرائے، پھر ٹھہرانے والا اور ٹھہرا ہوا انتقال کر جائے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ مکان ورثاء کے پاس آجائے گا۔ میں نے عرض کیا اے ابو عمران ! کیا یہ نہیں کہا جاتا تھا کہ جو شخص کسی کو تاحیات کسی چیز کا مالک بنائے تو وہ اس کے بعد اس کے ورثاء کی ہوتی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ آباد کی جانے والی زمینوں میں ہوتا ہے۔ رہائش، غلہ اور عاریہ ورثاء کی طرف لوٹتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21321
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21321، ترقيم محمد عوامة 20490)
حدیث نمبر: 21322
٢١٣٢٢ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: إذا وهب الرجل شيئًا فقال: هو لك ولعقبك، فهو له ولورثته، وإذا قال: هي لك حياتك، فهي راجعة إليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے کسی کو کوئی چیز سپرد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تیرے لیے اور تیرے گھر والوں کے لیے ہے، تو وہ اس کے لیے اور اس کے ورثاء کے لیے ہوگی اور اگر یہ کہا کہ یہ تیری زندگی میں تیرے لیے ہے تو یہ ہدیہ کرنے والے کے ورثاء کی طرف لوٹے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21322
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21322، ترقيم محمد عوامة 20491)
حدیث نمبر: 21323
٢١٣٢٣ - حدثنا ابن أبي (غنية) (١) عن أبيه عن الحكم قال: السكنى عارية.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ رہائش عاریہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21323
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21323، ترقيم محمد عوامة 20492)
حدیث نمبر: 21324
٢١٣٢٤ - حدثنا ابن أبي زائدة عن أشعث عن محمد قال: اختصم إخوة إلى شريح فقال أحدهم: زوجني و (أسكنني) (١) و (أثابني) (٢) فقال: (أزوّجه) (٣) وأسكنه؟ (فقالوا) (٤): (زوّجه) (٥) وأسكنه فقال: شاهدان ذو (ا) (٦) عدل على أنه (آثرك) (٧) بها على نفسه في حياته.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ حضرت شریح کی عدالت میں کچھ بھائیوں کا جھگڑا ہوا۔ ایک کہتا تھا کہ اس نے میرے شادی کرائی، مجھے رہائش دی اور مجھے ٹھکانہ دیا، حضرت شریح نے سوال کیا کہ کیا اس نے اس کی شادی کرائی اور رہائش دی۔ لوگوں نے تصدیق کی تو قاضی شریح نے فرمایا کہ دو عادل گواہ یہ گواہی دیں کہ اس نے تجھے اپنے زندگی میں خود پر ترجیح دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21324
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21324، ترقيم محمد عوامة 20493)