کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی آدمی کے سامنے غلے کو تولا جائے تو کیا خریدتے وقت دوبارہ تلوانا ہو گا؟
حدیث نمبر: 21260
٢١٢٦٠ - حدثنا شريك عن ابن أبي ليلى عن محمد بن بيان عن ابن عمر أنه سئل عن الرجل يشتري الطعام (١) قد شهد كيله، قال: لا، حتى يجري فيه الصاعان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی نے غلے کا وزن ہوتے دیکھا ہو تو کیا خریدنے سے پہلے دوبارہ اس کو ماپنا ضروری ہوگا۔ انہوں نے فرمایا کہ خریدنے سے پہلے دوبارہ اس کا ماپنا ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 21261
٢١٢٦١ - حدثنا محمد بن فضيل عن مطرف عن الشعبي قال: قلت له: أكون شاهد الطعام وهو (يكال) (١) أشتر (يه) (٢) آخذه بكيله؟ فقال: مع كل صفقة كيلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے سوال کیا میں ایک غلے کے ماپے جانے کے وقت موجود تھا، کیا میں اسے ماپے بغیر خرید سکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہر سودے کے لیے الگ طور پر ماپنا ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 21262
٢١٢٦٢ - حدثنا مروان بن معاوية عن (زياد) (١) مولى آل (سعد) (٢) قال: قلت لسعيد بن المسيب: رجل ابتاع طعاما فاكتاله. أيصلح (٣) أن أشتريه بكيل الرجل؟ فقال: لا، حتى يكال بين يديك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب سے سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی غلے کو ماپ کر خریدے تو کیا دوسرے آدمی کے لیے اس کے ماپنے پر اکتفاء کرتے ہوئے خریدنا ٹھیک ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ اپنے سامنے ماپ کرانا ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 21263
٢١٢٦٣ - حدثنا وكيع عن كهمس بن الحسن عن ميمون (القناد) (١) قال: قلت لسعيد بن المسيب: الرجل يشتري (الهاشمية) (٢) وأنا أنظر إلى وزنها أشتريها بوزنها؟ قال: كان يقال: ذلك الربا (خالط) (٣) الكيل والوزن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون قناد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب سے سوال کیا کہ ایک آدمی ایک جانور بیچتا ہے میں اس کو وزن کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو کیا اسی وزن سے خرید سکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ کہا جاتا تھا کہ یہ وہ سود ہے جو کیل اور وزن کے ساتھ ملا ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 21264
٢١٢٦٤ - حدثنا وكيع عن خالد بن عبد الرحمن السلمي قال: (قدم) (١) (رجل) (٢) (يحلال) (٣) فاشتراها رجل فكال منه (جلة) (٤) ثم أراد أن يأخذ بكيلها فكرهه الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن عبد الرحمن سلمی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کچھ برتن بیچنے کے لیے پیش کیے۔ ایک آدمی نے انہیں خرید لیا۔ پھر اسے اسی کیل کے ساتھ بیچنے کا ارادہ کیا تو حسن نے اسے مکروہ قرار دیا۔
حدیث نمبر: 21265
٢١٢٦٥ - حدثنا وكيع عن (عمر) (١) بن حفص قال: سمعت الحسن (وسأله رجل) (٢) عن رجل اشترى طعاما وهو ينظر إلى كيله، قال: لا، حتى يكيله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے کسی چیز کو کیل ہوتے دیکھا اور اگر اسے خریدنا چاہے تو دوبارہ کیل کرنا ہوگا۔
حدیث نمبر: 21266
٢١٢٦٦ - حدثنا زيد بن الحباب عن سوأدة بن (حيان) (١) قال: سمعت محمد بن سيرين وسئل عن رجلين اشترى أحدهما طعاما و (الآخر) (٢) (معه) (٣) فقال: قد شهدت البيع والقبض، فقال: خذ مني ربحا و (أعطنيه) (٤) قال: لا، حتى يجري فيه الصاعان، فيكون (له) (٥) زيادته وعليه نقصانه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی نے کھانا خریدا، دوسرا اس کے ساتھ تھا وہ کہتا ہے کہ میں نے بیع اور قبضے کو دیکھا ہے پھر وہ نفع کے ساتھ اس چیز کو خریدنا چاہتا ہے تو کیا اسی کیل میں خریدے۔ انہوں نے فرمایا کہ دوسری مرتبہ بیچنے سے پہلے دوبارہ ماپنا ضروری ہے تاکہ اضافے اور کمی کا علم ہوجائے۔