کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی درزی کو کپڑے دے اور درزی انہیں کاٹ دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21255
٢١٢٥٥ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم قال: لا بأس أن (يتقبل) (١) الخياط (الثياب) (٢) (بأجر) (٣) معلوم (يقبلها) (٤) بدون ذلك (٥)؛ بعد أن يعرفها بشيء (أ) (٦) ويقطع، أو يعطيه سلوكا و (إبرًا) (٧)، أو يخيط فيها شيئًا، فإن لم يعرفها بهذا أو بشيء منه فلا يأخذن فضلًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ درزی کپڑے معلوم اجرت کے بدلے قبول کرے۔ وہ اجرت معلوم کیے بغیر اس صورت میں قبول کرسکتا ہے اگر کسی طرح دس کی علامت لگا لی ہو یا اسے کاٹ دیا ہو یا اسے اس کا کچھ حصہ سوئی سے سی دیا ہو، اگر کوئی علامت نہ لگائی تو زائد کو وصول نہیں کرسکتا۔
حدیث نمبر: 21256
٢١٢٥٦ - حدثنا حفص بن غياث عن الشيباني عن حماد قال: كان لا يرى بأسًا أن يأخذ الثوب ويعطيه باقل من ذلك بالثلثين (أو النصف) (١) إذا قطع أو عمل فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ درزی کپڑا لے اور دیتے ہوئے دو ثلث اور یا نصف کم کر دے اگر اس نے اس کو کاٹا ہو یا اس میں کچھ کام کیا ہو۔
حدیث نمبر: 21257
٢١٢٥٧ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن أبي (خلدة) (١) قال: سألت عكرمة وأبا العالية فقلت: إني رجل خياط (أ) (٢) قطع الثوب و (أواجره) (٣) (بأقل) (٤) ⦗٢٦٥⦘ مما آخذه (به) (٥) قالا: تعمل فيه شيئًا؟ قلت: نعم! أقطعه وأضمه (قالا) (٦): لا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عکرمہ اور حضرت ابو العالیہ سے سوال کیا کہ میں درزی ہوں اور کپڑے سیتا ہوں میں جتنا اس میں سے لیتا ہوں اس سے کم اجرت طے کرتا ہوں، ایسا کرنا ٹھیک ہے ؟ انہوں نے فرمایا تم اس میں کوئی کام کرتے ہو ؟ میں نے کہا ہاں میں کاٹ کر اسے سیتا ہوں، انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21258
٢١٢٥٨ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن محمد في الرجل يدفع (إلى) (١) (الرجل) (٢) الثوب فيؤاجره بأقل، قال: لا بأس به (إذا) (٣) عمل فيه وقطعه، قال: (يستأذنه) (٤) أحب إلي.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو کپڑا دے اور اس کی اجرت کپڑے کی قیمت سے کم ہو تو اگر اس نے اس میں کام کیا اور کپڑا کاٹا تو اس میں کوئی حرج نہیں البتہ اجازت لینا بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 21259
٢١٢٥٩ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن أبي جعفر قال: في الخياط يدفع الثوب بالنصف أو الثلث أو الربع، قال: إذا أعانه بشيء فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص درزی کو کپڑے کا نصف، ثلث یا ربع دے اور کسی چیز سے اس کی مدد کرے تو کوئی حرج نہیں۔