حدیث نمبر: 21116
٢١١١٦ - حدثنا ابن نمير نا عثمان بن حكيم (قال) (١): (أخبرني) (٢) عبد الرحمن ابن عبد العزيز عن يعلى بن مرة أن رسول اللَّه ﷺ قال لرجل: "هبه لي" -أو قال-: " (بعنيه) (٣) " يعني (جملًا) (٤) قال: هو لك يا رسول اللَّه! (فوسمه) (٥) سمة الصدقة ثم (بعث) (٦) (به) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن مرہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا کہ اپنا اونٹ مجھے ہدیہ کردو۔ اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! یہ اونٹ آپ کا ہوا، آپ نے اس اونٹ پر صدقے کا نشان لگا کر اسے روانہ کرا دیا۔
حدیث نمبر: 21117
٢١١١٧ - حدثنا شريك عن ليث عن طاوس قال: لا بأس (في السمة) (١) في مؤخر الأذن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ کان کے پیچھے نشان لگانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21118
٢١١١٨ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: لا بأس بالسمة في الأذن] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ کان پر نشان لگانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21119
٢١١١٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد بن سلمة عن محمد بن زياد قال: مر ابن عمر بأبي وهو يسم وسم (قدامة) (١) بن (مظعون) (٢)، فقال ابن عمر: لا ⦗٢٣١⦘ (تلحم) (٣) لا (تلحم) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
محمد ابن زیاد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما میرے والد کے پاس سے گذرے وہ جانور پر حضرت قدامہ بن مظعون کا نشان لگا رہے تھے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اتنی زور سے نشان نہ لگا کہ گوشت تک پہنچ جائے۔ اتنی زور سے نشان نہ لگاؤ کہ گوشت تک پہنچ جائے۔
حدیث نمبر: 21120
٢١١٢٠ - حدثنا شبابة قال: نا شعبة عن هشام بن زيد قال: سمعت أنس بن مالك يقول: (رأيت) (١) رسول اللَّه ﷺ وهو في (المربد) (٢) (يسم) (٣) غنمًا له -أحسبه قال- في آذانها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مقام مربد میں اپنی بکریوں پر نشان لگا رہے تھے۔
حدیث نمبر: 21121
٢١١٢١ - حدثنا ابن عيينة عن إسحاق بن سليمان عن أبيه قال: سألت الشعبي عن وسم الغنم في آذانها فلم ير به بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
سلیمان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے بکریوں کے کانوں پر نشان لگانے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اسے جائز قرار دیا۔