حدیث نمبر: 21106
٢١١٠٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي الزبير عن جابر أن النبي ﷺ مر على حمار يوسم في وجهه (فقال) (١): "ألم أنه عن هذا؟ لعن اللَّه من فعل هذا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ایک حمار کے پاس سے گذرے، اس کے چہرے پر نشان لگا ہو اتھا، آپ نے فرمایا کہ کیا میں نے ایسا کرنے سے منع نہیں فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 21107
٢١١٠٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سماك عن عكرمة قال: نهى رسول اللَّه ﷺ أن يضرب وجه الدابة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے جانور کے چہرے پر نشان لگانے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 21108
٢١١٠٨ - [حدثنا وكيع عن حنظلة عن سالم عن أبيه أنه كره أن تعلَّم الصورة] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چہرے پر نشان لگانا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 21109
٢١١٠٩ - [حدثنا وكيع عن حنظلة عن سالم عن أبيه قال: نهى رسول اللَّه ﷺ أن تضرب الصورة] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے چہرے پر نشان لگانے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 21110
٢١١١٠ - حدثنا علي بن مسهر عن (ابن) (١) أبي ليلى عن عطية عن أبي سعيد قال: (رآني) (٢) رسول اللَّه ﷺ على حمار موسوم بين عينيه فكره ذلك وقال فيه قولًا شديدًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے مجھے ایک ایسے حمار پر سوار دیکھا، جس کی آنکھوں کے درمیان نشان لگا ہو اتھا، آپ نے اس عمل کو ناپسند قرار دیا اور اس بارے میں سخت بات فرمائی۔
حدیث نمبر: 21111
٢١١١١ - حدثنا علي بن مسهر عن ابن (جريج) (١) عن أبي الزبير عن جابر قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الضرب في الوجه، ((و) (٢) عن ⦗٢٢٩⦘ الوسم في الوجه) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے چہرے پر مارنے اور چہرے پر نشان لگانے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 21112
٢١١١٢ - حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن إبراهيم قال: قال عمر: لا يلطم الوجه (أو) (١) لا يوسم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ چہرے پر نہ تو مارا جائے گا اور نہ ہی نشان لگایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 21113
٢١١١٣ - حدثنا ابن علية عن خالد عن عكرمة قال: نهى عن وسمها في (وجهها) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ چہرے پر نشان لگانے سے منع کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 21114
٢١١١٤ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: يكره أن (توسم) (١) العجماء على خدها، أو (تلطم) (٢)، أو (تجر) (٣) برجلها (إلى مذبحها) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جانور کے چہرے پر نشان لگانا، یا چہرے پر مارنا یا اسے پاؤں سے گھسیٹ کر ذبح خانے کی طرف لے جانا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 21115
٢١١١٥ - حدثنا وكيع عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لكل شيء (حرمة) (١)، وحرمة البهائم وجوهها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر ایک کی ایک لائق احترام چیز ہوتی ہے، جانوروں کی لائق احترام چیز ان کا چہرہ ہے۔