حدیث نمبر: 21011
٢١٠١١ - حدثنا وكيع عن أسامة بن زيد عن إسماعيل بن أمية عن رجل من بني حارثة عن أشياخ لهم (١): أن بعيرا تردى (٢) (في بئر) (٣) فسألوا النبي ﷺ عنه فقال: "اطعنوه (وكلوه) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
بنو حارثہ کے ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ ایک چشمہ میں ایک اونٹ پھنس گیا، لوگوں نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ اسے نیزہ مار کر کھالو۔
حدیث نمبر: 21012
٢١٠١٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن عبد العزيز بن (سياه) (١) عن حبيب عن مسروق أن بعيرا (تردى) (٢) في بئر فصار أعلاه أسفله فقال على: قطعوه (أعضاء) (٣) وكلوه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ایک اونٹ کنویں میں اس طرح گرا کہ اس کا نچلا حصہ اوپر ہوگیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کے اعضا کو کاٹو اور اسے کھالو۔
حدیث نمبر: 21013
٢١٠١٣ - حدثنا (وكيع) (١) عن هشام عن قتادة عن سعيد بن المسيب في البعير يتردى في البئر فقال: يطعن حيث قُدِرَ ويذكر اسم اللَّه عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ اگر اونٹ کنویں میں گرجائے تو جیسے ممکن ہو بسم اللہ پڑھ کر اسے نیزہ مار دیا جائے۔
حدیث نمبر: 21014
٢١٠١٤ - حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن أبي (العشراء) (١) عن أبيه قال: قلت يا رسول اللَّه ما تكون الذكاة إلا في الحلق واللبة؛ فقال: "لو طعنت في فخذها لأجزاك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العشراء کے والد فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا ذبح کے لیے حلق اور شہ رگ کاٹنا ضروری ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اس کی ران میں نیزہ مار دو تو بھی کافی ہے۔
حدیث نمبر: 21015
٢١٠١٥ - حدثنا يحيى (عن أبي) (١) (حيان) (٢) عن (عباية) (٣) قال: تردى بعير في (ركية) (٤) وابن عمر حاضر، (فنزل) (٥) رجل لينحره فقال: لا أقدر أن أنحره، (فسأل) (٦) ⦗٢٠٢⦘ ابن عمر (فقال) (٧): (اذكر) (٨) اسم اللَّه (عليه) (٩) و (أجز) (١٠) عليه (مما) (١١) قبل شاكلته، ففعل فأخرج مقطعا، فأخذ منه ابن عمر عشرًا بدرهمين أو (بأربعة) (١٢) (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبایہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی موجودگی میں ایک اونٹ سرکش ہوگیا۔ ایک آدمی نے اسے نحر کرنا چاہا، لیکن اس کے لیے ایسا ممکن نہ ہوا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ کا نام لے کر اس کے پہلو میں نیزہ مار دو ۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ اس اونٹ میں سے گوشت کا ایک ٹکڑا نکالا گیا جسے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دو یا چار درہم میں خرید لیا۔
حدیث نمبر: 21016
٢١٠١٦ - حدثنا ابن مهدي نا (سفيان) (١) عن حبيب (عن أبي الضحى) (٢) عن مسروق في (قرمل) (٣) تردى في بئر فقال: قطعوه وكلوه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ اگر کوئی بہت بڑا اونٹ کنویں میں گر کر پھنس جائے تو اس کے ٹکڑے کاٹ کر کھالو۔
حدیث نمبر: 21017
٢١٠١٧ - حدثنا (١) وكيع عن عبد العزيز بن (سياه) (٢) عن أبي راشد السلماني قال: كنت أرعى (منائح) (٣) لأهلي بظهر الكوفة يعني (العشار) (٤) قال: ⦗٢٠٣⦘ فتردى منها بعير فخشيت أن يسبقني (بذكاته) (٥)، فأخذت حديدة فوجأت بها في جنبه أو (٦) (سنامه) (٧)، ثم قطعته أعضاء و (فرقته) (٨) على سائر أهلي، ثم أتيت أهلي فأبوا أن يأكوا حيث أخبرتهم خبره، فأتيت عليًّا فقمت على باب قصره فقلت: يا أمير المؤمنين! (يا أمير المؤمنين) (٩)! فقال: لبيكاه لبيكاه! فأخبرته خبره فقال (١٠): كل و (أطعمني) (١١) عجزه (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو راشد سلمانی فرماتے ہیں کہ میں اپنی حاملہ اونٹنیوں کو کوفہ کے پاس چرا رہا تھا کہ ایک اونٹ پانی میں بری طرح پھنس گیا۔ مجھے ڈر تھا کہ ذبح کرنے سے پہلے اس کی جان نکل جائے گی، چناچہ میں نے ایک لوہا پکڑا اور اس کی کمر یا اس کے کوہان میں مار دیا۔ پھر میں نے اس کے ٹکڑے کردیئے اور اپنے گھر والوں کو دے دئیے۔ لیکن انہوں نے ساری تفصیل سن کر اسے کھانے سے انکار کردیا۔ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا اور ان کے محل کے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر میں نے آواز لگائی : اے امیر المؤمنین ! اے امیر المؤمنین ! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں۔ میں نے انہیں پوری بات سنائی تو انہوں نے فرمایا کہ اسے کھالو اور اس کے پچھلے حصے کا گوشت مجھے دے دو ۔
حدیث نمبر: 21018
٢١٠١٨ - حدثنا مصعب نا يونس بن أبي إسحاق عن أبي إسحاق قال: كان شريح ومسروق يقولان: (إيما) (١) (بعير) (٢) تردى في بئر فلم يجدوا منحره (فتوجوؤه) (٣) بالسكين فهو ذكاته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح اور حضرت مسروق فرمایا کرتے تھے کہ اگر اونٹ کنویں میں گرجائے اور اس کو نحر کرنا ممکن نہ ہو تو اس کو چھری مار دیں، یہی اس کو ذبح کرنا ہے۔