کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ ناخن اور ہڈی کے علاوہ ہر وہ چیز جو خون بہائے اس سے ذبح کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 20976
٢٠٩٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو الأحوص عن سعيد (بن) (١) مسروق عن ⦗١٨٩⦘ (عباية) (٢) بن رفاعة عن أبيه عن جده قال: قلت: يا رسول اللَّه إنا نلقى العدو غدا وليس معنا مدى؟ فقال رسول اللَّه ﷺ: " (أرن) (٣) أو (٤) (أعجل) (٥) ما أنهر الدم (وذكر) (٦) اسم اللَّه عليه فكلوا، ما لم يكن سن أو ظفر، وسأحدثكم عن ذلك، أما السن فعظم وأما الظفر فمدى الحبشة" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبایہ بن رفاعہ کے دادا فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کل دشمن سے ہمارا سامنا ہوگا اور ہمارے پاس کوئی چھری وغیرہ نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اسے ذ بح کرو اور جلدی سے اس کی جان نکالو۔ ہر وہ چیز جو خون بہائے اور خون بہاتے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھالو البتہ دانت اور ناخن کا استعمال نہ کرو ۔ میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں کہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشہ والوں کی چھری ہے۔
حدیث نمبر: 20977
٢٠٩٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن هشام عن أبي إدريس قال: رأيت أنسًا أتى بعصافير فدعا بليطة (فذبحهن) (١) بها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ادریس فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ پرندے لائے گئے انہوں نے بانس کے چھلکے سے انہیں ذبح کیا۔
حدیث نمبر: 20978
٢٠٩٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو بكر بن عياش عن الشيباني عن المسيب بن رافع قال: سئل علقمة عن (الليطة) (١) يذبح (بها) (٢) والمروة؟ فقال: (لا بأس به، وقال) (٣): كل ما أفرى (الأوداج) (٤) إلا السن والظفر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسیب بن رافع سے نوکیلے پتھر اور بانس کے چھلکے سے ذبح کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، ہڈی اور ناخن کے علاوہ ہر وہ چیز جو رگیں کاٹ دے اس سے ذبح کیا ہوا جانور کھالو۔
حدیث نمبر: 20979
٢٠٩٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن الأعمش عن إبراهيم والشعبي قالا: لا بأس بذبح (الليطة) (١)، (أو قال) (٢): القصبة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ بانس کی چھال یا بانس کے ساتھ ذبح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 20980
٢٠٩٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى عن ابن جريج عن عمرو بن دينار قال: تذاكرنا عند أبي الشعثاء ما يذكى به فقال: ما أفرى (الأوداج) (١)، (و) (٢) ما أفرى: (ماحز) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو شعشاء کے سامنے جانور کو ذبح کرنے کے آلے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہر وہ چیز جو رگیں کاٹ دے اس سے ذبح کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 20981
٢٠٩٨١ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن قال: ما أفرى الأوداج وأهراق الدم (فكل) (١) ما خلا الناب والظفر والعظم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ دانت، ناخن اور ہڈی کے علاوہ ہر وہ چیز جو خون بہائے اسے ذبح کردہ وہ جانور کھالو۔
حدیث نمبر: 20982
٢٠٩٨٢ - حدثنا خالد بن حيان الرقي عن جعفر بن ميمون قال: كل ما أفرى اللحم وقطع الأوداج، إلا أنهم بيانوا يكرهون السن والظفر ويقولون: إنهما مدى الحبشة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن میمون فرماتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو خون بہائے اور رگیں کاٹ دے اس سے ذبح کردہ جانور حلال ہے۔ البتہ اسلاف دانت اور ناخن سے ذبح کرنے کو مکروہ سمجھتے اور انہیں حبشہ والوں کی چھری قرار دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 20983
٢٠٩٨٣ - حدثنا عمر بن أيوب عن جعفر بن برقان عن الزهري قال: لا ذكاة إلا (بالأَسَل) (١) و (الظُرَر) (٢)، وما قطع الأوداج وفرى اللحم فكل، ما خلا السن والظفر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ ذبح کسی دھاری دار تیز لوہے، یا دھاری دار تیز پتھر سے کرنا جائز ہے۔ ہر وہ چیز جو رگیں کاٹ دے یا خون بہائے تو ناخن اور دانت کے علاوہ ہر اس چیز سے ذبح کردہ جانور کھالو۔
حدیث نمبر: 20984
٢٠٩٨٤ - حدثنا أبو خالد (الأحمر) (١) عن عوف عن أبي رجاء قال: أصعدنا ⦗١٩١⦘ في (الحاج) (٢)، فأصاب (صاحب) (٣) لنا أرنبًا فلم يجد ما يذكيها به، فذبحها بظفره، فملوها (٤) (فأكلوها) (٥) وأبيت أن آكل قال: فلقيت ابن عباس فذكرت ذلك له فقال: أحسنت حين لم تأكل! قتلها (خنقًا) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رجاء فرماتے ہیں کہ ہم کانٹوں والی ایک سرزمین میں لمبا سفر کر رہے تھے کہ ہمارے ایک ساتھی نے ایک خرگوش پکڑا، اسے ذبح کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ملی تو اس نے اسے اپنے ناخن سے ذبح کردیا، پھر گرم ریت میں بھون کر اسے کھالیا۔ میں نے وہ خرگوش کھانے سے انکار کیا، پھر میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم نے نہ کھا کر بہت اچھا کیا کیونکہ اسے گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 20985
٢٠٩٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا يذبح بسن ولا عظم ولا (ظفر) (١) ولا قرن.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ دانت، ہڈی، ناخن اور سینگ سے ذبح نہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 20986
٢٠٩٨٦ - حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن سماك عن مري بن قطري عن عدي بن حاتم قال: سألت رسول اللَّه ﷺ عن (الذبيحة) (١) بالمروة و (الشِّقّة) (٢) فقال: "لا بأس به"، ورخص فيه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نوکیلے پتھر یا لاٹھی کی دھار سے ذبح کیے جانے والے جانور کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے اس کی رخصت دے دی۔
حدیث نمبر: 20987
٢٠٩٨٧ - حدثنا أبو خالد عن ابن جريج عمن حدثه عن رافع بن خديج قال: ⦗١٩٢⦘ (سألت) (١) رسول اللَّه ﷺ عن (الذبيحة) (٢) (بالليطة) (٣) فقال: "كل ما فرى الأوداج إلا سن (أو) (٤) (ظفر) (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بانس کی دھار سے ذبح شدہ جانور کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ دانت اور ناخن کے علاوہ ہر وہ چیز جو رگیں کاٹ دے اس کا ذبح جائز ہے۔
حدیث نمبر: 20988
٢٠٩٨٨ - حدثنا عبد الرحيم بن (سليمان) (١) عن إسماعيل (بن سميع) (٢) عن أبي (الربيع) (٣) سئل ابن عباس عن ذبيحة القصبة إذا لم يجد سكينًا فقال: إذا (فرت) (٤) فقطعت الأوداج كقطع السكين وذكر اسم اللَّه فكل، وإذا (ثلغت ثلغًا) (٥) فلا تأكل، وسألته عن ذبيحة الئروة إذا لم يجد سكينًا فقال: إذا (فرت) (٦) فقطعت الأوداج فكل (و) (٧) إذا (ثلغت) (٨) (ثلغًا) (٩) فلا تأكل (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی کو چھری نہ ملے اور وہ بانس کی دھار سے ذبح کر دے تو ایسا کرنا کیسا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ چھری کی طرح رگیں کاٹ دے اور اس پر ذبح کرنے والے نے اللہ کا نام لیا ہو تو کھالو اور اگر اس سے رگیں نہ کٹیں اور جانور مرجائے تو مت کھاؤ۔ میں نے ان سے چھری نہ ملنے کی صورت میں نوکیلے پتھر سے ذبح شدہ جانور کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ رگوں کو کاٹ دے تو کھالو اور اگر رگوں کو نہ کاٹ سکے اور جانور مرجائے تو مت کھاؤ۔
حدیث نمبر: 20989
٢٠٩٨٩ - حدثنا أبو الأحوص عن عاصم عن الشعبي عن محمد بن صيفي قال: أتيت النبي ﷺ بأرنبين قد ذبحتهما بمروة، فأمرني (بأكلهما) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت محمد بن صیفی فرماتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں دو خرگوش لے کر حاضر ہوا جنہیں میں نے نوکیلے پتھر سے ذبح کیا تھا آپ نے مجھے وہ خرگوش کھانے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 20990
٢٠٩٩٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن داود عن الشعبي عن محمد بن صفوان عن النبي ﷺ بمثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 20991
٢٠٩٩١ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن (أبي) (١) الزبير عن عبيد (ابن) (٢) عمير قال: اذبح بحجرك (وحديدتك) (٣) (وعودك) (٤) وعظمك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ جانور کو اپنے پتھر، اپنے لوہے، اپنی لکڑی اور اپنی ہڈی سے ذبح کرسکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 20992
٢٠٩٩٢ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): نا معتمر بن سليمان عن إسحاق بن سويد عن يحيى بن يعمر (قال) (٢): (كل) (٣) ما يجرح، (و) (٤) لا تأكل ما (يفدغ) (٥)، وكل شيء يفري الأوداج فكل، ولو بليطة أو (شظية) (٦) حجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن یعمر فرماتے ہیں کہ جو چیز زخم لگائے اس سے ذبح کیا ہوا کھالو اور جو چیز ہلکا سا پھاڑے اس کا ذبح کیا ہوا نہ کھاؤ۔ ہر وہ چیز جو لوگوں کو کاٹے اس سے ذبح کیا ہوا کھالو خواہ ہو بانس کی دھار ہو یا پتھر کی نوک۔
حدیث نمبر: 20993
٢٠٩٩٣ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن ابن طاوس عن أبيه قال: اذبح (بالحجر) (١) (والليطة) (٢) وكل شيء من (الشفرة) (٣) ما لم يجرح أو (يقدّغ) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ پتھر، بانس کی دھار اور ہر تیز دھار آلے سے ایسا ذبح کرو کہ کٹ جائے۔
حدیث نمبر: 20994
٢٠٩٩٤ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): نا (جرير) (٢) عن منصور عن إبراهيم قال: جاء أعرابي إلى الأسود فقال له: اذبح بالمروة، فقال له الأسود: (لا) (٣)! فلما ⦗١٩٥⦘ قفى الأعرابي قلت (٤): (أليس) (٥) لا بأس أن (يذبح) (٦) بالمروة؟ قال: إنما هذا (يريد) (٧) أن يفصد بعيره فإذا مات قال (٨): ذكيته.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی حضرت اسود کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ کیا میں نوکیلے پتھر سے ذبح کرسکتا ہوں ؟ حضرت اسود نے فرمایا نہیں۔ جب وہ چلا گیا تو میں نے کہا کہ کیا نوکیلے پتھر سے ذبح کرنا جائز نہیں ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ شخص اپنے اونٹ کو داغنا چاہتا تھا جب وہ مرجاتا تو یہ کہتا کہ میں نے اسے ذبح کیا ہے۔
حدیث نمبر: 20995
٢٠٩٩٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن (عبد الملك) (١) عن عطاء قال: إذا ذبحت بالعود والمروة فقطعت الأوداج فليس به بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب تم لکڑی یا نوکیلے پتھر سے ذبح کرو اور رگیں کاٹ دو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 20996
٢٠٩٩٦ - حدثنا يحيى بن (سعيد) (١) (عن) (٢) سلمة بن بشر عن عكرمة قال: (سألته) (٣) عن الذبيحة بالمروة (فقال) (٤): إذا كانت حديدة لا (تثرد) (٥) الأوداج فكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن بشر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عکرمہ سے سوال کیا کہ کیا نوکیلے پتھر سے ذبح کرنا جائز ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب وہ تیز دھار ہو اور رگوں کو کاٹ دے تو کھالو۔
حدیث نمبر: 20997
٢٠٩٩٧ - حدثنا غندر (حدثنا) (١) شعبة عن (عبد اللَّه) (٢) بن أبي (السفر) (٣) قال: سمعت الشعبي يقول: كُلْ ذبيحةَ المروة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ نوکیلے پتھر کا ذبیحہ کھالو۔
حدیث نمبر: 20998
٢٠٩٩٨ - حدثنا الفضل بن (دكبن) (١) عن إسرائيل عن السدي (٢) عن الوليد بن عتبة قال: (قال) (٣) (علي) (٤): إذا لم نجد إلا المروة [فاذبح بها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہیں نوکیلے پتھر کے علاوہ کچھ نہ ملے تو اسی سے ذبح کرلو۔
حدیث نمبر: 20999
٢٠٩٩٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن الشعبي قال: كل ما ذبح بالشفرة والمروة] (١) والقصبة والعود، (و) (٢) ما أفرى الأوداج وأنهر الدم، وكان يكره السن والعظم والظفر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ تیز دھار آلے، نوکیلے پتھر، بانس کی دھار، لکڑی اور ہر اس چیز سے ذبح کردہ جانور کو کھالو جو رگوں کو کاٹ دے اور خون بہائے۔ البتہ دانت ہڈی اور ناخن سے ذبح کرنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 21000
٢١٠٠٠ - حدثنا ابن عيينة عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار أن غلامًا من بني حارثة كان يرعى لقحة لنا (١) فأتاها الموت وليس معه ما يذكيها فأخذ (وتدًا) (٢) فنحرها فسأل النبي ﷺ (فأمره) (٣) بأكلها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ بنو حارثہ کا ایک غلام اپنی حاملہ اونٹنی کو احد پہاڑ کے پاس چرا رہا تھا، وہ اونٹنی اچانک مرنے لگی، اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے وہ اسے ذبح کرتا، اس نے باندھنے کی کھونٹی اٹھائی اور اسے نحر کردیا، پھر اس بارے میں حضور ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 21001
٢١٠٠١ - حدثنا جرير عن الركين (١) عن أبي طلحة الأسدي قال: (كنت) (٢) جالسًا عند ابن عباس فأتاه أعرابي فقال: كنت (في) (٣) غنم (فعدا) (٤) الذئب (فبقر) (٥) (النعجة) (٦) من غنمي، (فنثر) (٧) (قصبها) (٨) في الأرض فأخذت ظرارًا (٩) من الأظرة فضربت بعضه ببعض حتى صار لي منه كهيئة السكين، فذبحت به الشاة و (أهرقت) (١٠) به الدم، وقطعت العروق فقال: انظر (ما) (١١) مس الأرض منها فاقطعه فإنه قد مات وكل سائرها (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طلحہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا کہ میں اپنے بکریوں کے ریوڑ کو چرا رہا تھا کہ ایک بھیڑیا آیا اور اس نے ایک بھیڑ پر حملہ کردیا۔ اس نے بھیڑ کو بالکل نڈھال کردیا نا اور اس کی انتڑی باہر نکال دی۔ میں نے ایک پتھر کو توڑکر چھری کی طرح بنایا اور اس سے بکری کو ذبح کردیا۔ اس کا خون بھی بہا اور اس کی رگیں بھی کٹ گئیں۔ اب فرمائیں کہ اس بکری کا کیا حکم ہے ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جو حصہ زمین پر گرگیا تھا اسے پھینک دو اور باقی کو کھالو۔
حدیث نمبر: 21002
٢١٠٠٢ - حدثنا محمد بن بشر عن مسعر عن عاصم عن زر قال: قال عمر: (ليذكين) (١) لكم (٢) الأسل (٣): الرماح والنبل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس بات کی بھرپور کوشش کرو کہ نیزے یا تیر سے ذبح کرو۔
حدیث نمبر: 21003
٢١٠٠٣ - حدثنا (أبو) (١) معاوية عن حجاج عن نافع عن (ابن) (٢) كعب بن مالك عن أبيه أن (جويرية) (٣) لهم سوداء ذبحت شاة بمروة فسأل النبي ﷺ عن ذلك فأمره (بأكلها) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری ایک سیاہ فام باندی نے نوکیلے پتھر سے ایک بکری ذبح کی، اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا تو آپ نے اس کے کھانے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 21004
٢١٠٠٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن حماد عن إبراهيم عن ابن مسعود قال (١): كل ما أفرى الأوداج إلا سن أو ظفر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دانت اور ناخن کے علاوہ ہر وہ چیز جو رگیں کاٹ دے اس کو کھالو۔
حدیث نمبر: 21005
٢١٠٠٥ - حدثنا (أبو) (١) أسامة عن حماد بن زيد عن سلمة بن علقمة قال: سئل محمد عن الذبيحة بالعود فقال: (كل) (٢) ما لم (يفدغ) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے لکڑی کے ذریعے ذبح کردہ جانور کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ہر وہ چیز جو رگوں کو کاٹ دے اسے کھالو۔
حدیث نمبر: 21006
٢١٠٠٦ - حدثنا ابن مبارك عن خالد عن عكرمة عن ابن عباس قال: الذكاة في الحلق واللبة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ذبح حلق اور شہ رگ کاٹنا ہے۔
حدیث نمبر: 21007
٢١٠٠٧ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن داود بن أبي عاصم أن بعيرًا ⦗١٩٩⦘ (تردى) (١) في منهل من تلك المناهل فلم يستطيعوا أن ينحروه، فسألوا (٢) سعيد بن المسيب فقال: لا منحر إلا منحر إبراهيم ﵇ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داود بن ابی عاصم فرماتے ہیں کہ پانی کے گھاٹ پر ایک اونٹ سرکش ہوگیا۔ لوگوں نے حضرت سعید بن مسیب سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے منحر کے سوا کوئی منحر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 21008
٢١٠٠٨ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن عطاء قال: لا نحر إلا في المنحر و (الذبح) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ منحر اور مذبح کے علاوہ کہیں نحر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 21009
٢١٠٠٩ - حدثنا يزيد بن هارون أنا هشام الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن (المعرور) (١) عن (ابن) (٢) الفرافصة (٣): (أن الفُرافصة) (٤) كان عند عمر فأمر مناديه (فنادى) (٥) (أن النحر) (٦) (في) (٧) اللبة و (الحلق) (٨) لمن ⦗٢٠٠⦘ (قدر) (٩)، وأقروا الأنفس حتى تزهق (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن فرافصہ کہتے ہیں کہ حضرت فرافصہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے منادی کو حکم دیا کہ لوگوں میں یہ اعلان کرو کہ نحر شہ رگ اور حلق میں اس کے لیے ہے جو اس کی طاقت رکھے۔ جانور کے جسم کو روح نکلنے تک چھوڑے رکھو۔
حدیث نمبر: 21010
٢١٠١٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن أبي نجيح عن عطاء في رجل ذبح شاة من قفاها فكره أكلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی نجیح فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے بکری کو گدی کی جانب سے ذبح کیا تو حضرت عطاء نے اس کے کھانے کو مکروہ قرار دیا۔