حدیث نمبر: 20973
٢٠٩٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم ويونس عن الحسن أنهما لم يريا بأسًا بما مات من السمك في (الحظيرة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حسن اس مچھلی کے کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے جو جال میں مرجائے۔
حدیث نمبر: 20974
٢٠٩٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم أنه كره من السمك ما يموت في الماء، إلا أن يتخذ الرجل (حظيرة) (١)، فما دخل فيها فمات لم ير (بأكله) (٢) بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم پانی میں مرنے والی مچھلی کو مکروہ قرار دیتے تھے، البتہ وہ مچھلی جو آدمی کے جال میں پھنس کر مرے اسے جائز قرار دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 20975
٢٠٩٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن (معقل) (١) (بن) (٢) عبيد اللَّه عن عبد الكريم عن سعيد بن جبير قال: إذا (حظرت) (٣) في الماء (حظيرة) (٤) فما مات فيها فكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جو مچھلی تمہارے جال میں پھنس کر مرے اسے کھالو۔