حدیث نمبر: 20948
٢٠٩٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا حماد بن (١) خالد عن مالك بن أنس عن (زيد) (٢) بن أسلم عن (سعد) (٣) الجاري قال: سألت (ابن) (٤) (عمر وابن) (٥) عمرو ⦗١٨٢⦘ عن الحيتان تموت (صردًا) (٦) أو يقتل بعضها بعضا (قالا) (٧): حلال (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد جامدی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما و رضی اللہ عنہ سے ان مچھلیوں کے بارے میں سوال کیا جو سردی سے مرجائیں یا دوسری مچھلیوں نے انہیں مار ڈالا ہو۔ دونوں حضرات نے فرمایا کہ وہ حلال ہیں۔
حدیث نمبر: 20949
٢٠٩٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مهدي عن زمعة عن ابن طاوس عن أبيه أنه كان يكره الحوت التي قتلتها الحوت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس اس مچھلی کو مکروہ قرار دیتے ہیں تھے جسے دوسری مچھلی نے مار دیا ہو۔
حدیث نمبر: 20950
٢٠٩٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مهدي عن مالك عن زيد بن أسلم عن (سعد الجاري) (١) عن عبد اللَّه بن عمر (قال) (٢): لا بأس بها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایسی مچھلی کو کھانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 20951
٢٠٩٥١ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن حميد قال: سئل عبد اللَّه بن عبيد (بن عمير) (١) عن رجل رمى (بشصه) (٢) (فأخذ) (٣) سمكة فجاءت سمكة أخرى فضربتها فذهبت (بنصفها) (٤) قال: يأكل ما بقي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی مچھلی پکڑنے کے لیے کانٹا پانی میں ڈالے۔ اس میں ایک مچھلی پھنس جائے لیکن دوسری مچھلی آ کر اس پر حملہ کرے اور اس کا آدھا حصہ لے جائے تو کیا حکم ہے ؟ فرمایا وہ باقی حصے کو کھا سکتا ہے۔