کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: "تمہارے لیے اور سفر کرنے والوں کے لیے سامانِ رہنمائی (راہ و نقل و حمل کے وسائل) ہیں " (سورۃ النحل: آیت 80)
حدیث نمبر: 20941
٢٠٩٤١ - حدثنا أبو بكر قال: نا حاتم بن إسماعيل عن حميد بن صخر عن محمد بن كعب القرظي عن ابن عباس في قوله: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ. . .﴾ [المائدة: ٩٦] ما ألقى البحر على ظهره ميتا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت { أحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہُ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ مچھلی ہے جسے سمندر مردہ حالت میں باہر پھینک دے۔
حدیث نمبر: 20942
٢٠٩٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: ما لفظ على (ظهره) (١) ميتًا فهو طعامه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آیت قرآنی میں وطعامہ سے مراد وہ مچھلی ہے جسے سمندر باہر پھینک دے۔
حدیث نمبر: 20943
٢٠٩٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحيم بن سليمان عن ليث عن شهر عن أبي أيوب قال: ما لفظ البحر فهو طعامه وإن كان ميتًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ایوب فرماتے ہیں کہ آیت قرآنی میں (وطعامہ) سے مراد وہ مچھلی ہے جسے سمندر باہر پھینک دے خواہ وہ مردار ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 20944
٢٠٩٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن عمرو عن أبي الشعثاء قال: ما كنا نتحدث إلا أن طعامه (مالحه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الشعشاء فرماتے ہیں کہ آیت میں (وطعامہ) سے مراد نمکین مچھلی ہے۔
حدیث نمبر: 20945
٢٠٩٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن التيمي عن أبي (مجلز) (١) عن ابن عباس قال: طعامه ما قذف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آیت میں وطعامہ سے مراد وہ مچھلی ہے جسے سمندر باہر پھینک دے۔
حدیث نمبر: 20946
٢٠٩٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: ما قذف.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ آیت میں وطعامہ سے مراد وہ مچھلی ہے جسے سمندر باہر پھینک دے۔
حدیث نمبر: 20947
٢٠٩٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحيم عن عبد الرحمن بن حرملة قال: سمعت سعيد بن المسيب سئل عن صيد البحر وطعامه (قال: طعامه) (١) ما لفظ وهو حي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب سے سمندر کے شکار اور اس کے طعام کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ اس سے مراد وہ زندہ جاندار ہیں جنہیں سمندر باہر پھینک دے۔