حدیث نمبر: 20859
٢٠٨٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو الأحوص عن الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن مسروق قال: قال عبد اللَّه: إذا رميت (طيرًا) (١) فوقع في ماء فلا تأكل، (فإني) (٢) أخاف أن (يكون) (٣) الماء قتله، و (إن) (٤) رميت صيدا وهو على جبل فتردى فلا تأكله فإني أخاف (أن) (٥) (٦) التردي (٧) أهلكه (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تم شکار کو تیر مارو اور وہ پانی میں گرجائے تو اسے مت کھاؤ، کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کہیں اسے پانی نے نہ مار ڈالا ہو اور اگر تم شکار کو تیر مارو اور وہ پہاڑ سے گرجائے تو اسے مت کھاؤ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں گرنے کی وجہ سے اس کی موت واقع نہ ہوئی ہو۔
حدیث نمبر: 20860
٢٠٨٦٠ - [حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن عاصم عن الحسن مثله] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے بھی یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 20861
٢٠٨٦١ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل عن حصين عن عامر في الرجل ⦗١٦٣⦘ يرمي الصيد فيغيب عنه قال: إن وجدته لم يقع في ماء ولم يقع من جبل ولم يأكل منه سبع فكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص شکار کو تیر مارے اور وہ اس سے غائب ہوجائے اگر وہ اسے پانی میں گرا ہوا، یا پہاڑ سے گرا ہوا یا درندے سے محفوظ حالت میں پائے تو کھالے۔
حدیث نمبر: 20862
٢٠٨٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن عيسى بن أبي (عزة) (١) عن الشعبي في دجاجة ذبحت فوقعت في ماء فكره أكلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر مرغی کو ذبح کیا جائے اور وہ پانی میں گرجائے تو اس کا کھانا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 20863
٢٠٨٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد عن أشعث عن منصور عن إبراهيم قال: إذا رميته فوقع في ماء فلا تأكله، وإذا رميته فتردى من جبل فلا تأكله.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب تم جانور کو پکڑو اور وہ پانی میں گرجائے تو اسے مت کھاؤ اور اگر تم اسے تیر مارو اور وہ پہاڑ سے گرجائے تو بھی اسے مت کھاؤ۔
حدیث نمبر: 20864
٢٠٨٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا حاتم بن وردان عن برد عن مكحول قال: إذا وقع في ماء فلا تأكله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ جب شکار پانی میں گرجائے تو اسے مت کھاؤ۔
حدیث نمبر: 20865
٢٠٨٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود عن زمعة عن ابن طاوس عن أبيه قال: إذا رميت الصيد فوقع في ماء فلا تأكل، (وإن) (١) تردى من جبل فلا تأكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ جب شکار پانی میں گرجائے تو اسے مت کھاؤ اور جب پہاڑ سے گرجائے تو بھی اسے مت کھاؤ۔
حدیث نمبر: 20866
٢٠٨٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن جويبر عن الضحاك قال: إن (وجدته) (١) لم يترد من جبل و (لم يجاور) (٢) ماء (فلتأكله) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ اگر تم اسے اس حال میں پاؤ کہ وہ پہاڑ سے نہ گرا ہو اور وہ پانی میں نہ ڈوبا ہو تو اسے کھا سکتے ہو۔
حدیث نمبر: 20867
٢٠٨٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو بكر الحنفي عن أسامة عن القاسم في رجل رمى صيدًا على شاهقة فتردى حتى وقع على الأرض وهو ميت قال: إن كان يعلم أنه مات من (رميته) (١) أكل، وإن شك أنه مات من التردي لم يأكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ اگر کسی شکاری نے بلندی پر بیٹھے شکار کو تیر مارا اور وہ نیچے آ لگا تو اگر وہ جانتا ہو کہ وہ اس کے تیر لگنے سے مرا ہے تو کھالے اور اگر اس کو شک ہو کہ وہ نیچے گرنے سے مرا ہے تو اسے نہ کھائے۔