کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شکار کی طرف تیر مارے لیکن وہ نظروں سے اوجھل ہو جائے، بعد میں اسے اپنا تیر جانور کو لگا ہوا ملے کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20846
٢٠٨٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير بن عبد الحميد عن موسى بن أبي عائشة عن أبي (رزين) (١) قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ بأرنب فقال: إني رميت أرنبًا فأعجزني طلبها حتى أدركني الليل، فلم أقدر عليها حتى أصبحت، فوجدتها وفيها ⦗١٥٩⦘ سهمي فقال: "أصميت أو أنميت؟ " (٢) قال: لا بل أنميت قال: "إن الليل خلق من خلق اللَّه عظيم، لا يقدر (خلقه) (٣) إلا الذي خلقه، لعله (أعان) (٤) على قتلها شيء أنبذها (عنك) (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رزین فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور ﷺ کے پاس ایک خرگوش لایا اس نے کہا کہ میں نے ایک خرگوش کو تیر مارا، میں اسے تلاش نہ کرسکا یہاں تک کہ رات ہوگئی، صبح وہ خرگوش مجھے مل گیا اور اس میں میرا تیر تھا، اب اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم نے اسے اسی وقت مار دیا تھا یا وہ بعد میں کسی اور عارض سے مرا تھا ؟ اس نے کہا، نہیں، وہ بعد میں مرا تھا، حضور ﷺ نے فرمایا کہ رات اللہ کی ایک عظیم مخلوق ہے، اس کی حقیقت سوائے اس کے خالق کے کوئی نہیں جان سکتا، شاید اس خرگوش کو کسی اور چیز نے مارا ہو اس لیے اسے پھینک دو ۔
حدیث نمبر: 20847
٢٠٨٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن نمير ويحيى بن آدم عن سفيان عن موسى بن أبي عائشة عن عبد اللَّه بن أبي (رزين) (١) عن أبيه عن النبي ﷺ بنحو منه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 20848
٢٠٨٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا (أبو) (١) معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب قال: جاء رجل إلى أبي الدرداء فقال: إني أرمي الصيد فيغيب عني ثم أجد سهمي فيه من الغد أعرفه فقال: أما أنا فكنت آكله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
زید بن وہب فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ میں ایک جانور کو تیر ماروں اور وہ مجھ سے غائب ہوجائے، اگلے دن وہ مجھے ملے اور اس میں میرا تیر ہو تو میرے لیے کیا حکم ہے ؟ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے ساتھ ایسا ہو تو میں کھا لوں گا۔
حدیث نمبر: 20849
٢٠٨٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن (الأجلح) (١) عن عبد اللَّه ⦗١٦٠⦘ ابن أبي الهذيل قال: (سمعت) (٢) ابن عباس وسأله عبد أسود فقال له: يا أبا عباس! إني أرمي الصيد فأصمي وأنمي فقال: ما أصميت فكل وما (أنميت) (٣) فلا تأكل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ایک حبشی غلام نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ اگر میں کسی جانور پر تیر چلاؤں اور میں اسے اپنے تیر سے ہلاک کر دوں یا تیر لگنے کے بعد وہ کسی اور وجہ سے ہلاک ہو تو کیا حکم ہے ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اگر وہ تمہارا تیر لگنے سے ہلاک ہو تو کھالو اور اگر بعد میں ہلاک ہو تو اسے مت کھاؤ۔
حدیث نمبر: 20850
٢٠٨٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن الأعمش عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس بنحو من حديث حفص (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 20851
٢٠٨٥١ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن سعيد عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر قال: إذا رمى ثم وجد سهمه من الغد، (فلا يأكل) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر آدمی شکار کو تیر مارے اور اگلے دن اپنا تیر اس میں لگا دیکھے تو اسے نہ کھائے۔
حدیث نمبر: 20852
٢٠٨٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا (ابن) (١) فضيل عن حصين عن عامر في الرجل يرمي الصيد فيغيب عنه قال: فإن وجدته لم يقع في ماء ولم يقع من جبل ولم يأكل منه سبع فكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص شکار کو تیر مارے اور وہ غائب ہوجائے تو اب اگر وہ اسے پانی میں، یا پہاڑ سے گرا ہوا یا کسی درندے کا روندا ہوا نہ پائے تو کھالے۔
حدیث نمبر: 20853
٢٠٨٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الصمد بن عبد الوارث عن حماد بن سلمة عن عمرو عن جابر بن زيد قال: إذا وجدت سهمك فيه من الغد فعرفته، فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید فرماتے ہیں کہ اگر تم اگلے دن شکار میں اپنا تیر لگا پاؤ تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 20854
٢٠٨٥٤ - حدثنا أبو (بكر) (١) قال: نا حاتم بن وردان عن برد عن مكحول أنه ⦗١٦١⦘ كان يقول: إذا غاب عنك ليلة (وإن) (٢) وجدت (سهمك فيه) (٣) من الغد فعرفته فلا تأكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرمایا کرتے تھے کہ شکار اگر رات کو تم سے غائب ہوجائے اور اگلے دن تم اپنا تیر اس میں لگا دیکھو اور اسے پہچان لو تو اسے مت کھاؤ۔
حدیث نمبر: 20855
٢٠٨٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن هشام عن الحسن قال: إذا رميت الصيد فغاب عنك ليلة فمات فوجدت سهمك فيه فلا تأكله.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب تم شکار کو تیر مارو اور وہ تم سے غائب ہو کر مرجائے تو تم اس میں اپنا تیر بھی دیکھو تو اسے مت کھاؤ۔
حدیث نمبر: 20856
٢٠٨٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبيدة بن حميد عن حبيب بن أبي عمرة عن سعيد بن جبير قال: سأله رجل فقال: إني أرمي الصيد؛ فيغيب عني ثم أجده بعد ذلك، فقال له سعيد: إن وجدته وليس فيه إلا سهمك فكل، وإن لا فلا تأكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب بن ابی عمرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعید بن جبیر سے سوال کیا کہ میں اگر شکار کو تیر ماروں اور وہ مجھ سے غائب ہوجائے اور پھر بعد میں مل جائے تو کیا حکم ہے ؟ حضرت سعید رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر اس میں صرف تمہارے تیرکا نشان ہو تو کھالو اور اگر اس کے علاوہ بھی کچھ ہو تو مت کھاؤ۔
حدیث نمبر: 20857
٢٠٨٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن داود عن الشعبي أن عدي بن حاتم قال: يا رسول اللَّه! أحدنا يرمي الصيد فيقتفي أثره اليومين والثلاثة ثم يجده ميتًا (١) فيه سهمه أيأكل؟ قال: "نعم إن شاء" أو قال: "يأكل إن شاء" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے سوال کیا یا رسول اللہ ! ہم میں سے کوئی شکار پر تیر چلاتا ہے اور دو تین دن تک اسے تلاش کرتا ہے، وہ شکار اسے مردہ حالت میں ملتا ہے اور تیر اس میں پیوست ہوتا ہے تو اس کا کھانا کیسا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر چاہے تو اسے کھا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 20858
٢٠٨٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن عبد الملك بن ميسرة عن سعيد بن جبير عن عدي بن حاتم قال: سألت رسول اللَّه ﷺ عن الصيد أرميه فأطلب الأثر بعد ليلة قال: "إذا وجدت سهمك فيه ولم يأكل ⦗١٦٢⦘ منه سبع فكل" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اگر میں شکار پر تیر چلاؤں اور وہ اگلے دن ملے تو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : کہ اگر تمہارا تیر اس میں پیوست ہو اور اس کو کسی درندے نے نہ کھایا ہو تو تم کھاسکتے ہو۔