کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی آدمی شکار کو پکڑے اور اس میں زندگی کی رمق موجود ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20794
٢٠٧٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا أخذت الصيد وبه رمق فمات في يدك فلا تأكله.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر تم شکار کو پکڑو اور اس میں زندگی کی رمق موجود ہو اور وہ تمہارے ہاتھ میں مرجائے تو اسے مت کھاؤ۔
حدیث نمبر: 20795
٢٠٧٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحيم بن سليمان عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن نافع أنه رمى (دبسيًا) (٢) بحجر (فصرعه) (٣) (فأخذ) (٤) عبد اللَّه (يعالجه) (٥) (بقدوم) (٦) معه ليذبحه، فمات في يده قبل أن يذبحه فألقاه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت نافع رحمہ اللہ نے ایک کبوتر کو پتھر مارا اور اسے گرا دیا، انہوں نے اسے پکڑ کر اپنے پاس موجود ایک تیشہ اس کی گردن پر پھیرا تاکہ اسے ذبح کردیں لیکن وہ ان کے ذبح کرنے سے پہلے مرگئی تو انہوں نے اسے پھینک دیا۔
حدیث نمبر: 20796
٢٠٧٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا (ابن) (١) إدريس عن ابن جريج عن عطاء قال: إذ كنت في تخليص الصيد فسبقك بنفسه، فلا بأس أن (تأكله) (٢)، وإن تربصت به فمات فلا (تأكله) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر تم شکار تک پہنچنے کی کوشش کرو اور وہ تمہارے پہنچنے سے پہلے مرجائے تو اس کھانے میں کوئی حرج نہیں اور اگر تم اسے پکڑ لو اور تمہیں ذبح کرنے کا موقع بھی ملے لیکن تم اس کو ذبح نہ کرو تو اب اسے مت کھاؤ۔
حدیث نمبر: 20797
٢٠٧٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا سهل بن يوسف عن شعبة قال: سألت الحكم عن الرجل يدرك الصيد وبه رمق، فيدع الكلب حتى (يقتله) (١) قال: لا يأكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی شکار کو پہنچے اور اس میں زندگی کی رمق موجود ہو لیکن اس کا کتا اسے مار ڈالے تو اس شکار کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اسے مت کھائے۔
حدیث نمبر: 20798
٢٠٧٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود عن أبي حرة عن الحسن في رجل (أدرك) (١) كلبه على صيد فأدرك الصيد وبه رمق فمات في (يديه) (٢) فقال: إذا كان الكلب (مكلبًا) (٣) فليأكل.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے اپنے کتے کو شکارپر چھوڑا، جب آدمی شکار تک پہنچا تو اس میں زندگی کی رمق باقی تھی لیکن وہ اس کے ہاتھ میں مرگیا اب اگر اس کا کتا سدھایا ہوا تھا تو وہ آدمی اسے کھا سکتا ہے۔