حدیث نمبر: 20775
٢٠٧٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن مبارك عن معمر قال: حدثني قتادة عن سعيد بن المسيب في كلب المشرك قال: إنما هو كشفرته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے مشرک کے کتے کے شکار کو مکروہ قرار دیا۔ حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اگر تم خودا س کے کتے سے شکار کرو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 20776
٢٠٧٧٦ - قال: (و) (١) قال الزهري: إذا كنت أنت تصيد به فلا بأس.
حدیث نمبر: 20777
٢٠٧٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن (غياث) (١) عن ليث عن مجاهد أنه كره صيد كلب (المجوسي واليهودي والنصراني) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے مجوسی، یہودی اور عیسائی کے کتے کے شکار کو مکروہ قرار دیا۔
حدیث نمبر: 20778
٢٠٧٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن ليث عن مجاهد (قال: لا يصيد) (١) بكلب المجوسي ولا يأكل من صيده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمان مجوسی کے کتے سے نہ تو شکار کرسکتا ہے اور نہ اس کا شکار کھا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 20779
٢٠٧٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن هشام عن الحسن أنه كان يكره أن يستعين المسلم بكلب المجوسي فيصيد به، ولا يرى بأسًا أن يستعين بكلب اليهودي والنصراني فيصيد به.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ اس بات کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ مسلمان شکار کرنے میں کسی مجوسی کتے سے مدد لے، البتہ ان کے نزدیک یہودی اور عیسائی کے کتے سے مدد لے کر شکار کرسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 20780
٢٠٧٨٠ - [حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن ابن أبي ليلى عن رجل عن إبراهيم أنه كره صيد كلب المجوسي] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ نے مجوسی کے کتے سے شکار کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 20781
٢٠٧٨١ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن ابن أبي ليلى عن الحكم قال: كلبه كسكينه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا کتا اس کی چھری کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 20782
٢٠٧٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل عن حجاج عن أبي الزبير عن جابر قال: لا بأس بصيد اليهودي والنصراني وذبائحهم، ولا خير في أصيد المجوس وذبائحهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہودی اور عیسائی کا شکار اور ذبیحہ حلال ہے۔ البتہ مجوسی کے شکار اور ذبیحہ میں کوئی خیر نہیں۔
حدیث نمبر: 20783
٢٠٧٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن حجاج عن أبي الزبير عن جابر قال: لا خير في صيد] (١) المجوسي، ولا بازه، ولا في كلبه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجوسی کے شکار، اس کے باز اور اس کے کتے میں خیر نہیں۔
حدیث نمبر: 20784
٢٠٧٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن ليث عن مجاهد وعطاء أنهما كرها صيد كلب المجوسي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ اور حضرت عطاء رحمہ اللہ نے مجوسی کے کتے کے شکار کو مکروہ قرار دیا۔
حدیث نمبر: 20785
٢٠٧٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن الحسن (أنه كره) (١) أن يستعير الرجل كلب المجوسي أو النصراني أو اليهودي فيصيد به ويقول: ما علمتم أنتم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ نے اس بات کو مکروہ قرار دیا کہ مسلمان کسی مجوسی، عیسائی اور یہودی سے اس کا کتا مانگ کر اس سے شکار کرے۔ وہ اس کی دلیل قرآن مجید کی آیت (وما علّمتم) پڑھتے کہ اس میں مسلمانوں کو خطاب ہے۔
حدیث نمبر: 20786
٢٠٧٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن أبي جعفر أنه كره صيد كلب المجوسي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوجعفر رحمہ اللہ نے مجوسی کے کتے کے شکار کو مکروہ قرار دیا۔
حدیث نمبر: 20787
٢٠٧٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن محمد بن مسلم عن ابن أبي نجيح عن مجاهد أنه كره صيد المجوسي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے مجوسی کے شکار کو مکروہ قرار دیا۔
حدیث نمبر: 20788
٢٠٧٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: سمعت وكيعًا يقول: سمعت سفيان يكره صيد كلب المجوسي حتى يأخذ من تعليم المسلم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجوسی کا کتا جب تک مسلمان سے تعلیم نہ لے تو اس کا شکار مکرو ہ ہے۔