کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی آدمی اپنے کتے کو کسی شکار پر چھوڑے اورکوئی دوسرا کتا بھی اس کے پیچھے لگ جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20756
٢٠٧٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل عن (مجالد) (١) عن الشعبي ⦗١٤١⦘ عن عدي بن حاتم قال: قلت: يا رسول اللَّه إنا قوم نصيد فما يحل لنا (مما) (٢) يحرم علينا؟ قال: "يحل لكم ما علمتم من الجوارح مكلبين تعلمونهن مما علمكم اللَّه فكلوا مما أمسكن عليكم واذكروا اسم اللَّه عليه" قال: قلت: وإن قتل؟ قال: "وإن قتل" قال: "وإن خالطها كلاب (أخر) (٣) فلا تأكل حتى تعلم أن كلبك هو الذي أخذه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم شکاری لوگ ہیں، ہمارے لیے کیا چیز حلال ہے اور کیا چیز حرام ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جن شکاری جانوروں کو تم اللہ کے دئیے ہوئے علم میں سے سکھاؤ تو وہ جس جانور کو تمہارے لیے شکار کریں اس کو کھالو، بشرطیکہ تم نے اسے روانہ کرتے وقت اس پر اللہ کا نام لیا ہو، میں نے عرض کیا خواہ وہ اسے مار ڈالے ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں خواہ وہ اسے مار ڈالے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارے کتے کے ساتھ دوسرے کتے بھی مل جائیں تو تم اس شکار کو اس وقت تک استعمال نہیں کرسکتے جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہو کہ تمہارے کتے نے اسے شکار کیا ہے۔
حدیث نمبر: 20757
٢٠٧٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن (جميل) (١) بن زيد قال: سألت ابن عمر عن صيد الكلاب فقال: أليست مقلدة؟ قال: (قلت) (٢): (بلى) (٣) انطلقت أقودها! قال: أكلها تقود؟ قال: قلت: منها ما أقود ومنها ما يتبعني، قال: إذا رأيت الصيد و (خلعت) (٤) كلبك، وذكرت اسم اللَّه، فكل ما (أصاد) (٥)، (وأما الكلب) (٦) التابع فإن اخذه فلا (تلبس) (٧) به إلا أن (تجده) (٨) حيًا فتذبحه، وإما أن ⦗١٤٢⦘ يفرسه كلب لم ترسله (فقتله) (٩) (فذلك) (١٠) حرام (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جمیل بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کتوں کے شکار کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ کیا انہیں شکار کے لیے سدھایا گیا ہے ؟ میں نے کہا ہاں ! اور میں ان کے پیچھے چلتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ سب کتے تمہارے آگے چلتے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں کچھ میرے پیچھے بھی آتے ہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب تم کوئی شکاردیکھو اور اپنے کتے کو اس پر چھوڑو اور اللہ کا نام لو تو جو شکار وہ کرے وہ کھالو۔ البتہ اگر تمہارے پیچھے آنے والا کتا بھی شکار کرے تو اسے ان کے ساتھ نہ ملاؤ اگر وہ شکار تمہیں زندہ مل جائے تو اسے ذبح کرلو، اگر تم نے کتے کو نہیں چھوڑا بلکہ اس نے اسے خود شکار کیا اور مار ڈالا تو یہ حرام ہے۔
حدیث نمبر: 20758
٢٠٧٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) أبو بكر عن أسامة بن زيد قال: سألت القاسم عن الرجل يرسل الكلب المعلم؛ فيأخذ الصيد فيقتله؛ فيجد معه كلابًا غير معلمة؛ قال: إن كان يعلم أن كلبه المعلم (قتله) (٢) فليأكل، وإن شك فلا يدري لعل غير الكلب شركه فلا يأكل.
مولانا محمد اویس سرور
اسامہ بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑے اور وہ شکار کو پکڑ کر مار ڈالے۔ لیکن یہ آدمی اپنے کتے کے ساتھ کچھ سدھائے کتے دیکھے تو کیا حکم ہے ؟ حضرت قاسم نے فرمایا کہ اگر اسے معلوم ہوجائے کہ سدھائے ہوئے کتے نے اسے قتل کیا ہے تو اسے کھالے اور اگر اسے شک ہو کہ کسی دوسرے کتے نے اس کے ساتھ مل کر اسے قتل کیا ہے تو اسے نہ کھائے۔
حدیث نمبر: 20759
٢٠٧٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا رد الكلب الذي ليس بمعلم على الكلب المعلم صيدًا فقد أفسد.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی بلا سدھایا کتا سدھائے کتے کے ساتھ مل کر شکار کرے تو اس نے شکار کو خراب کردیا۔