حدیث نمبر: 20397
٢٠٣٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال: نا سلام بن (القاسم) (١) الثقفي عن (أمه) (٢) (عن) (٣) أم سعيد سرية كانت لعلي (قالت) (٤): قال (علي) (٥): يا أم سعيد! قد (اشتقت) (٦) (أن) (٧) أكون عروسا، قالت: (و) (٨) عنده يومئذ ⦗٥٠٣⦘ أربع نسوة (فقلت) (٩): طلق (إحداهن) (١٠) و (استبدل) (١١) فقال: الطلاق قبيح، أكرهه (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سعید رضی اللہ عنہا جو کہ حضر ت علی رضی اللہ عنہ کی باندی تھیں فرماتی ہیں کہ ایک دن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ اے ام سعید رضی اللہ عنہا ! میرا دل چاہتا ہے کہ میں دولہا بنوں۔ اس وقت ان کے نکاح میں چار عورتیں تھیں۔ میں نے ان سے کہا کہ ایک کو طلاق دے دیجئے اور شادی کر لیجیے۔ انہوں نے فرمایا کہ طلاق براکام ہے مجھے پسند نہیں۔