کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: آزاد عورت کو بچے کو دودھ پلانے پر مجبو رکیا جائے گا یا نہیں؟
حدیث نمبر: 20335
٢٠٣٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا معاذ بن معاذ عن أشعث عن الحسن أنه قال: لا تجبر المرأة على الرضاع، وتجبر أم الولد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آزاد عورت کو بچے کو دودھ پلانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا جبکہ ام ولد کو مجبور کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 20336
٢٠٣٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن جويبر عن الضحاك قال: إذا كان ⦗٤٨٣⦘ للمرأة صبي مرضع، فهي أحق به، (ولها أجر) (١) (رضاع) (٢) مثلها إن قبلته، وإن لم تقبله استرضع له من (غيرها) (٣) إن قبل الصبي من غيرها فذلك؛ وإن لم (يقبل) (٤) جبرت على رضاعه وأعطيت (أجر) (٥) مثلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی عورت کا دودھ پینے والا بچہ ہو تو وہ اس کو دودھ پلانے کی زیادہ حقدار ہے، اور اس اس جیسی عورتوں کے برابر بدلہ ملے گا اگر وہ دودھ پلانے کو قبول کرلے۔ اور اگر وہ قبول نہ کرے تو کسی اور سے دودھ پلوایا جائے گا۔ اگر بچہ کسی اور عورت کا دودھ پینے لگے تو ٹھیک ورنہ اس کی ماں کو دودھ پلانے پر مجبور کیا جائے گا اور اسے اس کی قیمت دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20337
٢٠٣٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن شريك عن عطاء عن سعيد بن جبير: ﴿وَإِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَى﴾ [الطلاق: ٦]، قال: إذا قام الرضاع على شيء فالأم أحق به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { وَإِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَہُ أُخْرَی } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اگر رضاعت کسی چیز پر قائم ہو تو ماں اس کی زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 20338
٢٠٣٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال: (نا) (١) سفيان إذا كان الولد لا يأخذ من غيرها وخشي عليه (جبرت) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر بچہ کسی اور عورت کا دودھ نہ پئے اور اس کی جان کو خطرہ ہو تو ماں کو ہی دودھ پلانے پر مجبور کیا جائے گا۔