کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: وہ عورت جس کا خاوند انتقال کر گیاہو وہ عدت میں زینت کی کن کن چیزوں سے اجتناب کرے گی؟
حدیث نمبر: 20070
٢٠٠٧٠ - [حدثنا أبو بكر قال: نا (سفيان) (١) بن عيينة عن عاصم عن حفصة ⦗٤١٣⦘ ابنة سيرين عن أم عطية أنها قالت: لا تكتحل، ولا تختضب، ولا تلبس ثوبا مصبوغا إلا ثوب عصب، ولا تطيب إلا عند غسلها من حيضتها (بنبذة) (٢) من قسط (و) (٣) أظفار، (تقول) (٤) في المتوفى عنها] (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام عطیہ فرماتی ہیں کہ جس عور ت کا خاوند انتقال کر گیا وہ وہ عدت میں سرمہ اور خضاب استعمال نہیں کرے گی، رنگا ہوا کپڑے نہیں پہنے گی، البتہ عصب نامی کپڑا پہن سکتی ہے۔ خوشبو استعمال نہیں کرے گی البتہ حیض کا غسل کرتے ہوئے قسط اور اظفار نامی خوشبو میں سے تھوڑی سی لگاسکتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20070
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه سعيد بن منصور (٢١٣٥)، وورد مرفوعًا عند البخاري (٣١٣)، ومسلم (٩٣٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20070، ترقيم محمد عوامة 19303)
حدیث نمبر: 20071
٢٠٠٧١ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس قال: كان (ينهى) (١) المتوفى عنها (عن) (٢) الطيب والزينة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس عورت کو خوشبو اور زینت سے منع کیا کرتے تھے جس کے خاوند کا انتقال ہوگیا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20071
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20071، ترقيم محمد عوامة 19304)
حدیث نمبر: 20072
٢٠٠٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن أيوب بن موسى عن نافع قال: اشتكت صفية (عينها) (١) لما توفي ابن عمر [فكانت (تقطر) (٢) (فيها) (٣) (الصبر) (٤)] (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے وصال کے بعد ان کی اہلیہ حضرت صفیہ کی آنکھ میں تکلیف ہوئی تو وہ آنکھ میں صبر نامی بوٹی کا پانی ٹپکایا کرتی تھیں۔ (یعنی علاج کے لئے بھی سرمہ نہیں لگاتی تھیں)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20072
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20072، ترقيم محمد عوامة 19305)
حدیث نمبر: 20073
٢٠٠٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا حميد بن عبد الرحمن عن حسن بن صالح عن عاصم عن لاحق بن حميد عن ابن عمر قال: تترك المتوفى عنها الكحل والطيب (والحلي) (١) و (المصبغة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس عورت کا خاوند انتقال کرجائے وہ سرمہ، خوشبو، زیور اور رنگ استعمال نہیں کرے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20073
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20073، ترقيم محمد عوامة 19306)
حدیث نمبر: 20074
٢٠٠٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا حميد بن عبد الرحمن عن حسن بن صالح (عن عاصم) (١) عن (أنس) (٢) مثله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20074
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20074، ترقيم محمد عوامة 19307)
حدیث نمبر: 20075
٢٠٠٧٥ - [حدثنا أبو بكر قال: نا ابن نمير عن عبيد اللَّه (بن عمر) (١) عن نافع عن ابن عمر قال: المتوفى عنها زوجها لا تكتحل، ولا (تختضب) (٢)، (ولا تطيب) (٣)، ولا تلبس ثوبًا إلا ثوب عصب ولا (تبيت) (٤) عن بيتها ولكن تزور بالنهار] (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ عورت جس کا خاوند انتقال کرگیا ہو وہ نہ سرمہ لگائے گی، نہ خضاب اور نہ ہی خوشبو، وہ صرف عصب نامی کپڑا پہنے گی۔ اپنے خاوند کے گھر سے باہر رات نہیں رہے گی البتہ اقارب سے ملاقات کے لئے جاسکتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20075
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20075، ترقيم محمد عوامة 19308)
حدیث نمبر: 20076
٢٠٠٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن (سعيد) (١) عن قتادة أن (أسماء) (٢) بنت (عثمان) (٣) توفي زوجها، فرمدت عينها، فبعثت إلى عائشة تسألها فنهتها أن تكتحل بالإثمد، (فبعثت إليها: أني قد كنت عودته عينيّ، وإني قد خشيت عليها؟ فبعثت إليها: لا تكتحل بالإثمد) (٤) وإن (انفضخت) (٥) عينك (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امینہ بنت عثمان کے خاوند فوت ہوگئے، خاوند کی فوتیدگی کے بعد ان کی آنکھ میں تکلیف ہوگئی۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس کسی کو بھیج کر پوچھا کہ بیماری کی صورت میں میں آنکھوں میں اثمد سرمہ لگایا کرتی تھی۔ مجھے اپنی آنکھ کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے تو کیا میں وہی سرمہ استعمال کرلوں ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اثمد سرمہ ہرگز نہ لگانا خواہ تمہاری آنکھ ہی ضائع ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20076
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20076، ترقيم محمد عوامة 19309)
حدیث نمبر: 20077
٢٠٠٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن ليث عن مجاهد قال: (سألت) (١) امرأة فقالت: إني امرأة عطارة؛ وإن زوجي قد مات، فنهاها وقال: لا تكتحلي إلا من ضرورة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے ایک عورت نے سوال کیا کہ میں خوشبو بیچتی ہوں اور میرے خاوند کا انتقال ہوگیا ہے کیا میرے لئے ایسا کرنا درست ہے ؟ حضرت مجاہد نے انہیں خوشبو کو ہاتھ لگانے سے منع کیا اور فرمایا کہ تم سرمہ بھی ضرورت کے تحت لگا سکتی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20077
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20077، ترقيم محمد عوامة 19310)
حدیث نمبر: 20078
٢٠٠٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان (١) عن بديل بن ميسرة عن الحسن بن مسلم (بن يناق) (٢) عن صفية (ابنة شيبة) (٣) (عن أم سلمة) (٤) ⦗٤١٦⦘ (قالت) (٥): لا تلبس المتوفى عنها في عدتها حليًا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے وہ اپنی عدت میں زیور نہیں پہن سکتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20078
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20078، ترقيم محمد عوامة 19311)