کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک عورت اس دن سے عدت شروع کرے گی جب گواہ فوتیدگی یا طلاق کی گواہی دیں
حدیث نمبر: 20028
٢٠٠٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة قال: إذا شهدت الشهود على طلاق أو موت فعدتها من ذلك اليوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت اس دن سے عدت شروع کرے گی جب گواہ فوتیدگی یا طلاق کی گواہی دیں۔
حدیث نمبر: 20029
٢٠٠٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن داود (بن) (١) أبي الفرات عن محمد ابن زيد عن سعيد بن المسيب (قال) (٢): المتوفى عنها زوجها إذا كان غائبًا (تعتد) (٣) من يوم توفي إذا شهدت على ذلك الشهود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے وہ اس وقت سے عدت شروع کرے گی جس دن گواہ اس کے فوت ہونے کی گواہی دے دیں۔
حدیث نمبر: 20030
٢٠٠٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان قال: سمعت الحكم يقول: (سألت) (١) سعيد بن جبير عن (المتوفى) (٢) عنها زوجها وهو غائب من (أي يوم) (٣) تعتد؟ قال. من يوم مات زوجها تعتد إذا قامت البينة، وإذا طلقت (مثل) (٤) ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے وہ کس دن سے عدت گزارنا شروع کرے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر گواہی قائم ہوجائے تو جس دن اس کے خاوند کا انتقال ہوا اسی دن سے عدت گزارنا شروع کردے اور جب طلاق ہوجائے تب بھی یہی حکم ہے۔
حدیث نمبر: 20031
٢٠٠٣١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن أيوب عن نافع عن ابن عمر قال: تعتد من يوم مات أو طلق إذا قامت البينة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عورت اس دن سے عدت شروع کرے گی جب فوتیدگی یا طلاق کی گواہی قائم ہوجائے۔
حدیث نمبر: 20032
٢٠٠٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن سعيد ابن المسيب وسليمان بن يسار أنهما قالا: تعتد من يوم مات أو طلق، إذا قامت البينة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت اس دن سے عدت شروع کرے گی جب فوتیدگی یا طلاق کی گواہی قائم ہوجائے۔
حدیث نمبر: 20033
٢٠٠٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم قال: تعتد من يوم مات أو طلق إذا قامت البينة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت اس دن سے عدت شروع کرے گی جب فوتیدگی یا طلاق کی گواہی قائم ہوجائے۔
حدیث نمبر: 20034
٢٠٠٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن هشام عن محمد قال: تعتد المرأة من يوم مات أو طلق إذا قامت البينة.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت اس دن سے عدت شروع کرے گی جب فوتیدگی یا طلاق کی گواہی قائم ہوجائے۔
حدیث نمبر: 20035
٢٠٠٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن داود عن سعيد بن المسيب والشعبي قالا: إذا قامت البينة فالعدة من يوم يموت وإن لم تقم (فيوم) (١) يأتيها الخبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گواہی ہو تو عدت اس دن سے شروع ہوگی جس دن خاوند کا انتقال ہوا اور اگر گواہی نہ ہو تو اس دن سے جب اسے انتقال کی خبر ملی۔
حدیث نمبر: 20036
٢٠٠٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا الثقفي عن برد عن مكحول في الرجل يطلق أو يموت وهو غائب قال: (إن) (١) قامت بينة عادلة (إذن) (٢) (اعتدت) (٣) من يوم يموت، (وإلا) (٤) فمن يوم يأتيها الخبر (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے غائب ہونے کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی یا فوت ہوگیا تو اگر عادل گواہی قائم ہوجائے تو عورت اسی دن سے عدت گزارنا شروع کرے جس دن انتقال ہوا اور اگر عادل گواہی نہ ہو تو اس دن سے عدت گزارے جس دن اسے اطلاع ملی۔
حدیث نمبر: 20037
٢٠٠٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا الثقفي عن أيوب عن عمرو عن رجل ⦗٤٠٦⦘ عن جابر ابن زيد قال: إذا (شهدت) (١) الشهود فمن يوم مات: يعني (في) (٢) العدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب گواہ گواہی دے دیں تو عورت اس دن سے عدت گزارے جس دن خاوند کا انتقال ہوا۔