کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک آدمی اس وقت تک رجوع کاحق رکھتا ہے جب تک عورت تیسرے حیض سے غسل نہ کرلے
حدیث نمبر: 19986
١٩٩٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن الأعمش عن إبراهيم عن (عمر) (١) وعبد اللَّه أنهما قالا: من طلق امرأته فهو أحق برجعتها ما لم تغتسل من (حيضتها) (٢) الثالثة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلاق دینے کے بعد آدمی اس وقت تک رجوع کا حق رکھتا ہے جب تک عورت تیسرے حیض سے غسل نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 19987
١٩٩٨٧ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن جعفر عن أبيه عن علي وابن عباس قالا: هو أحق بها ما لم تغتسل من حيضتها الثالثة] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ طلاق دینے کے بعد آدمی اس وقت تک رجوع کا حق رکھتا ہے جب تک عورت تیسرے حیض سے غسل نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 19988
١٩٩٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن الحكم عن إبراهيم عن الأسود عن عمر وعبد اللَّه قالا: هو أحق بها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلاق دینے کے بعد آدمی اس وقت تک رجوع کا حق رکھتا ہے جب تک عورت تیسرے حیض سے غسل نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 19989
١٩٩٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن منصور (عن) (١) إبراهيم عن ⦗٣٩٤⦘ علقمة عن عمر (و) (٢) عبد اللَّه قالا: هو أحق بها حتى تغتسل من الحيضة الثالثة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلاق دینے کے بعد آدمی اس وقت تک رجوع کا حق رکھتا ہے جب تک عورت تیسرے حیض سے غسل نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 19990
١٩٩٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن عياش عن (عبيد اللَّه) (١) (الكلاعي) (٢) عن مكحول أن أبا بكر وعمر وعليًا وابن مسعود وأبا الدرداء وعبادة ابن الصامت و (عبد اللَّه) (٣) بن قيس الأشعري كانوا يقولون في الرجل يطلق امرأته تطليقة أو تطليقتين: إنه أحق بها ما لم تغتسل من (حيضتها) (٤) الثالثة، يرثها وترثه ما دامت في العدة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت ابو دردائ، حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت عبد اللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ م فرمایا کرتے تھے کہ ایک یا دو طلاقیں دینے کے بعد آدمی اس وقت تک رجوع کا حق رکھتا ہے جب تک عورت تیسرے حیض کا غسل نہ کرلے۔ جب تک وہ عدت میں ہے وہ دونوں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔
حدیث نمبر: 19991
١٩٩٩١ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن عياش عن عبيد اللَّه بن (عبيد) (١) عن مكحول قال: قال (ابن) (٢) عمر: إن دخل عليها المغتسل قبل أن تفيض عليها الماء فهو أحق بها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت کے غسل خانے میں جانے کے بعدپانی ڈالنے سے پہلے وہ رجوع کرلے تو وہ اس کا حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 19992
١٩٩٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا سفيان بن عيينة عن الزهري عن سعيد بن ⦗٣٩٥⦘ المسيب عن علي قال: هو أحق بها (حتى) (١) تغتسل من الحيضة الثالثة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلاق دینے کے بعد آدمی اس وقت تک رجوع کا حق رکھتا ہے جب تک عورت تیسرے حیض سے غسل نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 19993
١٩٩٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن سعيد عن ابن عجلان عن مكحول عن سعيد بن المسيب قال: (لو) (١) أن رجلًا دخل على امرأته وهي تغتسل فقال: قد راجعتك، فقالت: (كذبت) (٢)، كذبت، و (صبت) (٣) الماء على رأسها كان أحق بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس اس وقت جائے جب وہ تیسرے حیض سے فارغ ہونے کے بعد غسل کرنے لگی ہو اور اس سے کہے کہ میں نے تجھ سے رجوع کی، اور وہ عورت کہے کہ تو نے جھوٹ بولا ، تو نے جھوٹ بولا اور اپنے سر پر پانی ڈال لے تو بھی وہ شخص اس عورت کا زیادہ حقدار ہوگا۔
حدیث نمبر: 19994
١٩٩٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن (جويبر) (١) عن الضحاك بن مزاحم أن امرأة تزوجت شابا فطلقها تطليقة أو تطليقتين قال: فاتاها وهي تغتسل من الحيضة الثالثة فقال: يا فلانة! إني قد راجعتك، فقالت: كذبت! ليس ذلك (إليك) (٢) فارتفعوا إلى (السلطان) (٣) عمر بن الخطاب وعنده عبد اللَّه بن مسعود فقال عمر: ما ترى يا أبا عبد الرحمن؟ قال: فقال: أنشدك باللَّه هل كنت (لطمته) (٤) بالماء؟ قالت: ما فعلت! قال: فقال: خذ بيدها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک بن مزاحم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عورت نے کسی نوجوان سے شادی کی ۔ اس نوجوان نے اسے ایک یا دو طلاقیں دے دیں۔ پھر وہ اس کے پاس اس وقت آیا جب وہ عورت تیسرے حیض کا غسل کررہی تھی۔ اور اس سے کہا کہ اے فلانی ! میں نے تجھ سے رجوع کیا۔ اس عورت نے کہا کہ تو نے جھوٹ بولا ! تو ایسا کر ہی نہیں سکتا۔ پھر یہ مقدمہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پیش ہوا۔ ان کے پاس حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ اے ابو عبدالرحمن ! آپ کی کیا رائے ہے ؟ انہوں نے عورت کو قسم دے کر پوچھا کہ کیا تو نے اپنے جسم پر پانی ڈال لیا تھا ؟ اس نے کہا نہیں۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نوجوان سے فرمایا کہ اس کا ہاتھ پکڑکر لے جا۔