کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر ایک آدمی اپنی بیوی کوطلاق دے اور پھر اسے ایک یا دوحیض آجائیں اور وہ عورت شادی کرلے تو کیا پہلے خاوند کے پاس رجوع کا حق ہوگا؟
حدیث نمبر: 19970
١٩٩٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن سعيد عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم في رجل طلق امرأته فحاضت حيضة أو حيضتين وتزوجت في عدتها فانقضت عدتها عند زوجها (فقال) (١): بانت منه بتطليقة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دے اور اسے ایک یا دو حیض آجائیں، پھر وہ عورت عدت میں کسی سے شادی کرلے اور اس کی عدت دوسرے خاوند کے پاس پوری ہو تو وہ پہلے خاوند سے ایک طلاق کے ساتھ بائنہ ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19970
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19970، ترقيم محمد عوامة 19210)
حدیث نمبر: 19971
١٩٩٧١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى قال: سئل سعيد عن رجل تزوج امرأة في عدتها، ثم علم أنه تزوجها في عدتها، وقد انقضت عدتها (عنده) (١)، هل لزوجها (الأول) (٢) عليها رجعة، فحدثنا عن علي بن الحكم عن محمد بن (زيد) (٣) عن سعيد بن جبير أنه قال: يفرق بينهما، ولا رجعة عليها؛ لأن عدتها قد انقضت عند هذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالاعلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے اس کی عدت میں شادی کرے اور پھر اسے بعد میں معلوم ہو کہ وہ عورت عدت میں ہے تو کیا پہلے خاوند کو رجوع کا حق ہے ؟ انہوں نے سند بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کرائی جائے گی اور مرد کو رجوع کا حق نہیں ہوگا کیونکہ عورت کی عدت اس کے پاس پوری ہوگئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19971
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19971، ترقيم محمد عوامة 19211)
حدیث نمبر: 19972
١٩٩٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة أنه قال: زوجها أحق بها، ولا يقربها حتى تنقضي عدتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کا شوہر اس کا زیادہ حقدار ہے اور وہ عدت پوری ہونے تک اسکے قریب نہیں جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19972
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19972، ترقيم محمد عوامة 19212)
حدیث نمبر: 19973
١٩٩٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مهدي عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم في رجل طلق امرأته تطليقة أو تطليقتين؛ فحاضت عنده حيضتين؛ ثم (تزوجها) (١) رجل فحاضت عنده حيضتين قال: بانت من الأول، ولا تحتسب به لمن بعده.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں، پھر اس کے پاس اسے دو حیض آئے اور پھر ایک آدمی نے اس سے شادی کی اور اس کے پاس اسے ایک حیض آیا تو وہ پہلے خاوند سے بائنہ ہوگئی اور اس کے بعد والے کو شمار نہیں کرے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19973
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19973، ترقيم محمد عوامة 19213)
حدیث نمبر: 19974
١٩٩٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مهدي عن سفيان عن معمر عن الزهري قال: (تحتسب) (١) به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد والے کو شمار کرے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19974
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19974، ترقيم محمد عوامة 19214)