کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر عورت کرائے کے گھر میں رہتی تھی اور اسے طلاق ہوگئی تو اب وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 19931
١٩٩٣١ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير بن عبد الحميد عن مغيرة عن إبراهيم (سئل) (١) عن امرأة طلقت وهي ساكنة في بيت بكراء فقال: إن أحسن أن يعطي أجرًا وتمكث في بيتها حتى تنقضي عدتها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت کرائے کے گھر میں رہتی تھی اور اسے طلاق ہوگئی تو اب وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ بہتر ہے کہ آدمی مکان کا کرایہ دے اور وہ عدت کے پورا ہونے تک اسی گھر میں رہے۔
حدیث نمبر: 19932
١٩٩٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الوهاب الثقفي عن يحيى بن سعيد قال: سئل ابن المسيب عن امرأة طلقت وهي في بيت بكراء (على من الكراء) (١) -؟ قال: على زوجها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک عورت کرائے کے گھر میں رہتی ہو اور اسے طلاق ہوجائے تو کرایہ کون دے گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ کرایہ اس کے خاوند پر لازم ہوگا۔