حدیث نمبر: 19916
١٩٩١٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: تعتد المطلقة في بيت زوجها (و) (١) لا تكتحل بكحل زينة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی۔ اور زینت والا سرمہ نہیں لگائے گی۔
حدیث نمبر: 19917
١٩٩١٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن أبي زائدة عن الأعمش عن إبراهيم عن مسروق قال: جاء رجل إلى عبد اللَّه فقال: إني طلقت امرأتي (ثلاثًا) (١) و (إنها) (٢) ⦗٣٧٣⦘ تريد أن تخرج قال: (احبسها) (٣) قال: لا (تجلس) (٤) قال: (فقيدها) (٥) قال: إن لها إخوة غليظة (رقابهم) (٦) قال: (استعد) (٧) الأمير (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں اور وہ گھر سے جانا چاہتی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اسے روکے رکھو۔ اس آدمی نے کہا کہ وہ نہیں رکتی۔ انہوں نے فرمایا کہ اس قید کرو۔ اس آدمی نے کہا کہ اس عورت کے بھائی ہیں جو بڑے مضبوط اور توانا ہیں۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ امیر کی طرف رجوع کرو۔
حدیث نمبر: 19918
١٩٩١٨ - حدثحا أبو بكر قال: نا جرير عن هشام بن عروة عن أبيه قال: المطلقة تزور ولا تبيت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق یافتہ عورت اپنے اقارب سے ملاقات کرسکتی ہے لیکن وہاں رات نہیں گزار سکتی۔
حدیث نمبر: 19919
١٩٩١٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن سعيد بن أبي (عروبة) (١) عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: المطلقة ثلاثًا لا تخرج من بيت زوجها، ولا تمس طيبًا إلا عند الطهر (بنبذة) (٢) من قسط (و) (٣) أظفار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس عورت کو تین طلاقیں دے دی گئی ہوں وہ اپنے خاوند کے گھر سے باہر نہیں نکل سکتی۔ وہ خوشبو بھی صرف طہر میں لگائے جو کہ قسط اور اظفار نامی خوشبو میں سے معمولی سی۔
حدیث نمبر: 19920
١٩٩٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا (أبو زكير) (١) يحيى بن محمد القرشي عن ابن عجلان عن عبد الرحمن بن (نضلة) (٢) قال: (طلقت) (٣) بنت عم لي ⦗٣٧٤⦘ ثلاثًا (٤) البتة (فأتيت سعيد) (٥) بن المسيب أسأله فقال: تعتدّ في بيت زوجها حيث طلقت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن نضلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی چچا زادبہن کو تین طلاقیں دے دیں پھر میں حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے پاس آیا کہ ان سے اس بارے میں سوال کروں۔ انہوں نے فرمایا کہ وہاں اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی جہاں اسے طلاق دی گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس بارے میں حضرت قاسم، سالم، ابوبکر بن عبد الرحمن بن حارث ، خارجہ بن زید اور سلیمان بن یسار s سے سوال کیا تو ان سب نے وہی بات کی جو حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمائی تھی۔
حدیث نمبر: 19921
١٩٩٢١ - (قال) (١): وسألت القاسم وسالمًا وأبا بكر بن عبد الرحمن بن الحارث (وخارجة) (٢) بن زيد وسليمان بن يسار كلهم يقول: مثل قول سعيد.
حدیث نمبر: 19922
١٩٩٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري في المطلقة ثلاثًا والمتوفى عنها زوجها: يعتدان في بيت (زوجيهما) (١) ويُحِدان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جس عورت کو تین طلاقیں دی گئی ہوں یا اس کا خاوند انتقال کرگیا ہو وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزاریں گی اور زیر ناف بالوں کو صاف کریں گی۔
حدیث نمبر: 19923
١٩٩٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر عن يحيى بن سعيد عن القاسم (أن) (١) يحيى بن سعيد بن العاص طلق امرأته بنت عبد الرحمن بن (أم) (٢) الحكم فانطلقت إلى أهلها فأرسلت عائشة إلى مروان: اتق اللَّه ورد المرأة إلى بيتها فقال مروان: (إن) (٣) عبد الرحمن غلبني (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید بن عاص رحمہ اللہ نے اپنی بیوی (بنت عبد الرحمن بن حکم رحمہ اللہ ) کو طلاق دی۔ وہ اپنے گھر والوں کے پاس چلی گئیں۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مروان کے پاس پیغام بھیجا کہ اللہ سے ڈرو اور عورت کو اس کے خاوند کے گھر واپس بھیج دو ۔ مروان نے کہا کہ عبد الرحمن رحمہ اللہ مجھ پر غالب آگئے ہیں۔
حدیث نمبر: 19924
١٩٩٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة عن (عبيد اللَّه) (١) عن نافع عن ابن عمر قال: لا (تبيت) (٢) (المبتوتة) (٣) و (لا المتوفى) (٤) عنها زوجها إلا في بيتها، حتى تنقضي عدتها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس عورت کو طلاق دے دی گئی ہو یا اس کا خاوند انتقال کرگیا ہو تو وہ اپنے خاوند کے گھر میں ہی رہے گی جب تک اس کی عدت پوری نہ ہوجائے۔
حدیث نمبر: 19925
١٩٩٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد قال: طلقت امرأة بالمدينة (فسئل) (١) فقهاء أهل المدينة فقالوا: (تمكث) (٢) في بيتها، (فسئل) (٣) سعيد: فقال: تمكث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک عورت کو طلاق دی گئی پھر اس کے بارے میں مدینہ کے فقہاء سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ اپنے خاوند کے گھر میں رہے گی۔ اس بارے میں حضرت سعید رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ اپنے خاوند کے گھر میں ہی رہے گی۔