کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور اس کے پیٹ میں دو بچے ہوں، وہ ایک کو جنم دے دے تو عدت کا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19902
١٩٩٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن ليث عن أبي عمرو العبدي عن علي قال: إذا وضعت ولدا وبقي في بطنها ولد فهو أحق بها ما لم تضع الآخر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت ایک بچے کو جنم دے اور دوسرا اس کے پیٹ میں ہو تو مرد اس سے رجوع کرسکتا ہے جب تک وہ دوسرے بچے کو جنم نہ دے دے۔
حدیث نمبر: 19903
١٩٩٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن ابن جريج عن عطاء بن ميسرة عن ابن عباس قال: إذا وضعت ولدًا وبقي في بطنها ولد فهو أحق برجعتها ما لم تضع الآخر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب عورت نے ایک بچے کو جنم دیا اور ایک بچہ اس کے پیٹ میں باقی تھا تو مرد اس سے رجوع کرنے کا حقدار ہے جب تک وہ دوسرے بچے کو جنم نہ دے دے۔
حدیث نمبر: 19904
١٩٩٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن ابن جريج عن عطاء مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 19905
١٩٩٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب وعطاء وسليمان بن يسار في الرجل يطلق امرأته تطليقة فتضع ولدًا (فيكون) (١) في بطنها آخر (فيراجعها) (٢) زوجها فيما بين ذلك (قالوا) (٣): إن شاء راجعها حتى تضع الآخر (منهما) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ، حضرت سعید بن مسیب، حضرت عطاء اور حضرت سلیمان بن یسار s فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک طلاق دے اور اس کے بعد عورت ایک بچے کو جنم دے اور دوسرا بچہ اس کے رحم میں ہو تو دوسرے بچے کی پیدائش سے پہلے آدمی اس سے رجوع کرسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 19906
١٩٩٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود الطيالسي عن هشام عن حماد عن إبراهيم في رجل طلق امرأته وفي بطنها ولدان قال: هو أحق (برجعتها) (١) ما لم تضع الآخر وتلا: ﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ [الطلاق: ٤].
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے اور اس کے پیٹ میں دو بچے ہوں تو وہ دوسرے بچے کی پیدائش تک رجوع کا حق رکھتا ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی { وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ }
حدیث نمبر: 19907
١٩٩٠٧ - [حدثنا أبو بكر قال: نا حماد بن خالد عن ابن أبي ذئب عن الزهري في (التي) (١) تطلق وفي بطنها الولدان؟ قال: له الرجعة حتى تضع (ما) (٢) في بطنها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک مرد اپنی بیوی کو طلاق دے اور اس کے رحم میں دو بچے ہوں تو مرد اس وقت تک رجوع کرسکتا ہے جب تک وہ دوسرے بچے کو جنم نہ دے۔
حدیث نمبر: 19908
١٩٩٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن أشعث عن الشعبي قال: هو أحق بها ما لم تضع اللآخر] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرد اپنی بیوی سے اس وقت تک رجوع کرسکتا ہے جب تک دوسرے بچے کو جنم نہ دے دے۔
حدیث نمبر: 19909
١٩٩٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب (والحسن) (١) وسليمان بن يسار وعطاء بن أبي رباح قالوا: هو أحق بها ما لم تضع اللآخر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ ، حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ اور حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرد اپنی بیوی سے اس وقت تک رجوع کرسکتا ہے جب تک دوسرے بچے کو جنم نہ دے دے۔
حدیث نمبر: 19910
١٩٩١٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن أبي زائدة عن زكريا عن عامر قال: كانوا يقولون: لو كان ولد واحد خرج منه طائفة (كان) (١) يملك الرجعة ما لم يخرج كله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسلاف فرمایا کرتے تھے کہ اگر ایک بچے کا کچھ حصہ اپنی ماں کے رحم سے باہر آجائے تو پھر بھی خاوند کو رجوع کا حق ہوتا ہے جب تک بچہ پورے کا پورا باہر نہ آجائے۔
حدیث نمبر: 19911
١٩٩١١ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): نا وكيع قال: نا ابن (أبي خالد) (٢) عن الشعبي قال: هو أحق بها ما لم تضع الآخر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرد اپنی بیوی سے اس وقت تک رجوع کرسکتا ہے جب تک دوسرے بچے کو جنم نہ دے دے۔