کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کیا مرتد کی بیوی پر عدت لازم ہوگی؟
حدیث نمبر: 19888
١٩٨٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن موسى بن أبي كثير (أبي) (١) الصباح قال: قلت لسعيد بن المسيب: كم تعتد امرأته؟ يعني (المرتد) (٢)، قال: ثلاثة قروء، قلت: فإن قتل؟ قال: (أربعة) (٣) أشهر وعشرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے پوچھا کہ مرتدشخص کی بیوی کتنی عدت گزارے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ تین حیض۔ میں نے پوچھا اگر اسے قتل کردیا جائے تو ؟ فرمایا چار مہینے دس دن۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19888
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19888، ترقيم محمد عوامة 19137)
حدیث نمبر: 19889
١٩٨٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن الشعبي والحكم قالا في الرجل المسلم يرتد عن الإسلام ويلحق بأرض العدو، قالا: تعتد (امرأته) (١) ثلاثة قروء إن كانت تحيض، وإن كانت لا تحيض فثلاثة أشهر، وإن كانت (حاملٌ أن تضع) (٢) حملها ثم تزوج إن شاءت، وإن هو رجع (فتاب) (٣) قبل أن تنقضي عدتها (يثبتان) (٤) على نكاحهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ اور حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مسلمان مرتد ہوکر کافروں کی سرزمین میں چلا جائے تو اس کی بیوی کو اگر حیض آتا ہو تو تین حیض عدت گزارے گی اور اگر حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے۔ اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ پھر وہ چاہے تو شادی کرسکتی ہے۔ اگر اس کا خاوند عدت پوری ہونے سے پہلے واپس آجائے اور توبہ کرلے تو ان کا نکاح باقی رہے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19889
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19889، ترقيم محمد عوامة 19138)
حدیث نمبر: 19890
١٩٨٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل عن الحسن قال: إذا ارتد الرجل عن الإسلام فقد بانخا منه امرأته بتطليقة بائنة، فليس (له) (١) عليها سبيل إن رجع، وتعتد عدة المطلقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مرتد ہوجائے تو اس کی بیوی کو ایک طلاق بائنہ ہوجائے گی۔ اس کے پاس بیوی سے رجوع کرنے کا حق نہیں ہوگا اور عورت مطلقہ والی عدت گزارے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19890
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19890، ترقيم محمد عوامة 19139)
حدیث نمبر: 19891
١٩٨٩١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحيم عن إسماعيل عن أبي معشر عن إبراهيم قال: هو بها أحق ما دامت في العدة، إن رجع وهي في عدتها فهي امرأته.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک عورت عدت میں ہے وہ اس کا زیادہ حق دار ہوگا اگر عدت میں وہ رجوع کرلے تو وہ اسی کی بیوی رہے گی۔ حضرت ابو معشر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے یہی بات حضرت عبد الحمید بن عبدالرحمن کی طرف مرتد کے بارے میں لکھی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19891
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19891، ترقيم محمد عوامة 19140)
حدیث نمبر: 19892
١٩٨٩٢ - قال أبو معشر: فكتب بذلك عمر بن عبد العزيز إلى (عبد الحميد) (١) بن عبد الرحمن في المرتد (بذلك) (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19892
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19892، ترقيم محمد عوامة ---)