کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر نامرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کرادی جائے تو کیا عورت عدت گزارے گی؟
١٩٨٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن سعيد عن قتادة عن سعيد والحسن قالا: أجَّل عمر بن الخطاب العنين سنة، فإن استطاعها، وإلا فرق بينهما ⦗٣٦٥⦘ وعليها العدة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نامرد کو ایک سال کی مہلت دی کہ اگر وہ جماع کی طاقت رکھے تو ٹھیک ورنہ میاں بیوی کے درمیان جدائی کرادی جائے گی اور عورت پر عدت لازم ہوگی۔
١٩٨٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر (١) عن ابن (جريج) (٢) عن عطاء قال: إذا مضت السنة اعتدت بعد السنة عدة المطلقة، وإن لم يطلقها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب مہلت کو ایک سال گزر جائے تو عورت مطلقہ والی عدت گزارے گی خواہ نامرد نے طلاق نہ دی ہو۔
١٩٨٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن في (امرأة) (١) العنين قال: عليها العدة إذا فرق بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نامرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کرادی جائے تو اس پر عدت لازم ہوگی۔
١٩٨٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا أسود بن عامر قال: نا حماد بن سلمة عن هشام (بن) (١) عروة عن أبيه قال: عليها العدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب نامرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کرادی جائے تو اس پر عدت لازم ہوگی۔